حضرت مفتی صاحب! سفر میں قصر و اتمام سے متعلق ایک مسئلہ سمجھ نہیں آ رہا ہے اُمید ہے کہ تفصیلی وضاحت فرما کر مطمئن فرمائیں گے ، علماء سے سنا ہے کہ اڑتالیس(۴۸) میل سفر کا ارادہ کر کے شہر سےنکلنے پر آدمی مسافر ہو جاتا ہے اور اس پر سفر کے احکام لاگو ہو جاتے ہیں، ہمارے کچھ رشتہ دار کسی جگہ میں رہتے ہیں، ان کے گاؤں جانے کے لۓ دو راستے ہیں، ایک پرانا راستہ ہے جو بہت ٹوٹا پھوٹا ہے اور انتہائی خراب ہے اور دوسرا راستہ ابھی نیا بنا ہے جو پکی سڑک ہے، اور چونکہ دوسرے راستہ میں کافی آسانی ہوتی ہے، اس لۓ ابھی اس گاؤں کی آمدورفت کے لۓ لوگ یہی راستہ استعمال کرتے ہیں، یہاں مسئلہ یہ پوچھنا ہےکہ پہلا والا راستہ مذکور گاؤں کو سیدھا نکلا ہے اور اس راستہ پر ۴۸ میل کا فاصلہ نہیں بنتا، جبکہ دوسرے نئے راستہ پر چلتے ہوئے ۴۸ میل سے کہیں زیادہ فاصلہ بن جاتا ہے تو اس صورت میں اس نئے راستہ پر چلتے ہوئے اس گاؤں میں کوئی جاتا ہے تو وہ مسافر شمار ہوگا یا نہیں؟
جو شخص لمبا راستہ طے کر کے وہاں پہنچےگا وہ شرعاً مسافر ہے اور قصر اس پر لازم ہے، ورنہ نہیں۔
فی البحر: قال وفی فتاوی قاضیخان الرجل إذا قصد بلدة و الی مقصده طریقان أحدهما مسیرة ثلاثة أیام ولیالیها والآخر دونها فسلك الطریق الابعد کان مسافرا عندنا وإن سلك الاقصر یتم اھ (۲/۱۲۹)۔
وفی الدر المختار: ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني. (2/ 123)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4