کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام بیہقیؒ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کا ایک وفد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اسلام کے متعلق گفتگو کی ، انہوں نے عرض کی یار سول اللہﷺ ہم دیہاتی لوگ ہیں شہری زندگی سے ناآشنا ہے، ہم کو مدینہ طیبہ میں قیام کرنے کی اجازت دی جائے ،حضورﷺ نے انہیں اپنے پاس ٹھہرا لیا ، کچھ عرصہ بعد انہیں مدینہ طیبہ کی وبانے آلیا، حضورﷺ نے انہیں مدینہ سے باہر جانے کا حکم دیا اور وہاں کی اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا،کیونکہ ان کو استسقاء کی بیماری لگ گئی تھی، وہ تمام روانہ ہوئے جب وہ "حرہ" کے ایک کنارے پر پہنچے تو مرتد ہوگئے اور نبی اکرمﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا اور تمام اونٹنیوں کو لے گئے ، جب نبی اکرمﷺ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو ان کے تعقب میں روانہ کیا اور ان کے لۓ بد دعا کی "مولا انہیں گمراہ کر دے" اور غور وفکر کی صلاحیتیں سلب کردے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں راستے سے بھٹکا دیا ، صحابہ کرام نے انہیں پکڑ لیا اور بارگاہِ رسالت میں انہیں پیش کر دیا ، ان کے ہاتھ اور ٹانگیں کاٹ دی گئیں اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں،
اب سوال یہ ہے اس واقعہ سے استدلال کر کے کچھ لوگ آج بھی دودھ اور پیشاب پی رہے ہیں ، اب آپ بتائیۓ کہ اونٹنی کا پیشاب پینا حلال ہے یا حرام؟ اور یہ کہ پاک ہے یا نجس؟ اور جس شخص کے بارے میں یہ پتا چل جائے اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ،تفصیلی جواب دیجیۓ گا۔
پیشاب اونٹنی کا ہو یا کسی دوسرے جانور کا ،بلاشبہ نجس و ناپاک اور اس کا پینا بھی ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ حدیث شریف میں علاجاً اس کی اجازت دی گئی تھی۔
تاہم سوال میں جس شخص کے پینے کا ذکر ہے، اگر اس سے مذکور عمل کی درجِ ذیل وجوہات معلوم کر کے ارسال کر دی جائیں ، تو اس کے بارے میں بھی حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ہے، وہ وجوہ یہ ہیں:
۱۔ اس کا پینا کسی بیماری کی بناء پر ہے یا اس کے بغیر ؟
۲۔ اگر بیماری کی بناء پر ہے تو یہ پینا کسی ماہر معالج کا تجویز کردہ ہے یا نہیں؟
۳۔ وہ کتنے عرصہ سے پی رہا ہے اور آئندہ کب تک پیتا رہےگا؟
۴۔ آیا محض دوا کے طور پر تھوڑا تھوڑا پیتا ہے یا پیاس بجھانے کے لۓ زیادہ مقدار میں؟
۵۔ وہ ظاہری طور پر کون سی بیماری میں مبتلا ہے؟
۶۔ اس پینے کی وہ خود کیا علت بیان کرتا ہے؟
۷۔ کیا وہ اکیلے پیتا ہے یا اس کے گھرانہ کے تمام افراد پیتے ہیں؟
براہِ کرم ان امور کے جوابات تحریر کردیں ، واللہ أعلم بالصواب!
فی البحر الرائق: قوله ( لا ما لم يكن حدثا ) عطف على بول أي ما لا يكون حدثا لا يكون نجسا وهذا عند أبي يوسف فالدم الذي لم يسل كما إذا أخذ بقطنة ولو كان كثيرا في نفسه والقيء القليل إذا وقع في الماء لا ينجسه وكذا إذا أصاب شيئا وقال محمد إنه نجس والتداوي بالطاهر المحرم كلبن الأتان لا يجوز فما ظنك بالنجس ولأن الحرمة ثابتة فلا يعرض عنها إلا بتيقن الشفاء وتأويل ما روي في قصة العرنيين أنه عليه السلام عرف شفاءهم فيه وحيا الخ (۱/۱۱۵)۔
وفی الدر المختار: (وبول مأكول) اللحم (نجس) نجاسة مخففة، وطهره محمد (ولا يشرب) بوله (أصلا) لا للتداوي ولا لغيره عند أبي حنيفة. .[فروع] اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى (1/ 210)۔
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0