کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مرنے کے بعد سزا جسمِ انسانی پر ہوگی یا روحِ انسان پر، انسان کا جسم تو عموماً سات سے پندرہ دن کے اندر اندر سڑ جاتا ہے (سوائے جسد شہداء کے) اور روح کہیں لوٹ جاتی ہے (مجھے معلوم نہیں) اگر موت سے لے کر قیامت کے فیصلے کے دن تک روح پر سزا ہوتی ہو تو پھر روزِ قیامت میت دوبارہ زندہ کی جائے اور جزایا سزا کے خاطر جہنم میں بھیج دیا جائے یہ کیونکر ضروری ہے؟ میں سوال کی صحیح وضاحت نہیں کرپارہا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس طرح کے سوالات کرنے کے ہیں یا نہیں، بہرحال اس طرح کے کئی سوالات میرے ذہن میں ہیں اور برائے مہربانی یہ بھی بتائیں کہ انسانی جسم کسی حادثہ کی وجہ سے یا پانی میں یا فضاء میں بالکل ضائع ہوجائے تو اس صورت میں فرشتوں کو کس طرح جواب دیا جاسکتا ہے؟ برائے مہربانی قرآنی آیات اور احادیث کے حوالجات کے ساتھ جواب ارسال فرمائیں۔
میرے بارے میں کوئی بات دل میں نہیں رکھئے گا میں مسلمان اور پانچ وقت کی نماز کا پابند ہوں اس طرح کے سوالات کرنے کا مقصد دل میں آنے والے خیالات کو دور کرنا ہے مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہیں جہاں چاہیں جس وقت چاہیں جو چاہیں سب کچھ کرسکتے ہیں قیامت میں دوبارہ زندہ کئے جانے پر کوئی شک نہیں ،پکا ایمان ہے، آسمان سیارے وغیرہ کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں کچھ مادّی ومنوی وجوہات ہوتی ہیں (سوائے معجزات کے) جن میں بعض وجوہات سائنس کی ترقی کے بعد بالکل واضح ہوچکی ہیں اور بعض مستقبل قریب میں واضح ہوجائیں گی، امید ہے آپ نے میرا سوال اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
قرآنی آیات و احادیث اس بات پر صراحۃً دلالت کرتی ہے کہ عذابِ قبر روحِ انسانی کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی ہوگا چاہے وہ جسم ختم ہوکر قبر کی مٹی میں مل گیا ہو، پانی میں ڈوب گیا ہو، جل گیا ہو یا اور کوئی صورت ہو اور یہ بات چونکہ فقط شارع علیہ السلام کے خبر دینے پر موقوف ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں اس لئے اس میں زیادہ غور و خوض نہیں کرنا چاہئے بلکہ جتنی بات جس کیفیت کے ساتھ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اس پر بغیر کسی شک وشبہ کے ایمان لاکر اس کی تیاری میں لگنا چاہئے رہی یہ بات کہ قیامت سے پہلے قبر میں مردہ کو عذاب کیوں ہوتا ہے تو اس کو عام فہم مثال سے اس طرح سمجھنا چاہئے کہ جس طرح جب کسی مجرم کو پکڑا جاتا ہے تو فیصلہ آنے تک اس کو بطورِ سزا حوالات میں رکھا جاتا ہے اور فیصلہ آنے کے بعد قرارِ واقعی سزا جاری کی جاتی ہے بلاتشبیہ اسی طرح گناہ گار آدمی کو قیامت کے واقع ہونے تک قبر میں بطورِ سزا رکھا جاتا ہے اور پھر قیامت کے دن ضابطہ کے مطابق اس کا فیصلہ سنانے کے بعد واقعی سزا دی جاتی ہے مگر واضح ہو کہ قبر سے مراد برزخ ہے جو مستقل عالم ہے جس میں ہونے والی جزا و سزا کا ان مادّی آنکھوں سے مشاہدہ ممکن نہیں اور اس سزاکا ہونا قبر کے اس ظاہری گھڑے میں رکھے جانے پر موقوف نہیں بلکہ مرنے کے بعد آدمی جہاں کہیں بھی ہو اس پر جزا وسزا کا اثر مرتب ہوتا ہے۔
فیعذب اللحم متصلا بالروح والروح متصلا بالجسم فیتألم الروح مع الجسد وان کان خارجا عنہ۔ الخ (شامی: ج۲، ص۱۶۵)-
أنہ یجوز أن یخلق اﷲ تعالٰی فی جمیع الأجزاءِ أو فی بعضہا نوعا من الحیوٰۃ (الی قولہ) حتی أن الغریق فی الماءِ والماکول فی بطون الحیوانات والمصلوب فی الہواء یعذب وإن لم نطلع علیہ۔ (شرح عقائد:ص۱۱)-
تعاد الروح إلی الجسد أو بعضہ کما ثبت فی الحدیث ولو کان علی الروح فقط لم یکن للبدن بذلک اختصاص ولا یمنع من ذٰلک کون المیت قد تتفرق أجزاءہ لأن اﷲ قادر أن یعید الحیاۃ إلی جزء من الجسد ویقع علیہ السؤال کما ہو قادر أن یجمع اجزاء ہ۔ (فتح الباری: ج۳، ص۳۱)-
قال تعالٰی: النار یعرضون علیہا غدوّا و عشیا ویوم تقوم الساعۃ أدخلوا اٰل فرعون أشد العذاب (ففی حاشیۃ شرح العقائد تحت ہذہ الاٰیۃ) یعرضون أی قبل یوم القیامۃ وذلک فی القبر وذلک لأن العطف یدل علی المغایرۃ۔ (شرح عقائد: ص۱۰۰)واﷲ اعلم
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0