کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر کوئی مسلمان گناہ کرے اور مثال کے طور پر اس گناہ کی وجہ سے چودہ سال کی سزا لاگو آئے اور جب وہ مرجائے تو جب قبر میں جائے تو اس کو گناہ کی وجہ سے قبرمیں عذاب ہو ، اور دنیا ختم ہونے میں پندرہ سال ہوں اور وہ قبر میں پندرہ سال رہے اور اس عرصے میں وہ عذاب سہتا رہے اور جب پندرہ سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو تو فیصلے کے بعد اس دن یعنی قیامت کے دن سے اس کو چودہ سال کی سزا ہوگی اور اگر ہوگی تو قبر میں عذاب کا کیا جواز بنتا ہے؟ اور اگر اس نے قبر میں عذاب سہہ لیا ہے تو آخرت میں زندگی کے گناہ کا عذاب کیونکر ہوگا؟
جاننا چاہئے کہ عذابِ قبر اور عذابِ آخرت (یعنی عذابِ جہنم) دونوں برحق ہیں اور نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہیں اور ان کے حق ہونے کا اعتقاد رکھنا بھی ضروری ہے، البتہ عذاب قبر کو عذابِ آخرت سے وہی نسبت ہے جو کسی دنیاوی مجرم کو اصل جرم کی سزا دینے سے قبل حوالات میں بند کرنے سے ہے یعنی جس طرح اسے اصل جرم کی سزا حوالات سے نکالنے کے بعد دی جاتی ہے اسی طرح اُخروی مجرم جو اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑ کر خواہشاتِ نفسانیہ کے مطابق زندگی گزارے تو اسے بھی اس کی اصل سزا قبر سے نکالنے کے بعد جہنم میں دی جائے گی۔
باقی رہی یہ بات کہ کس کو قبر میں کتنا عرصہ رکھنا ہے اور کتنا عذاب قبر میں دینا ہے یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، ان امور میں وہ کسی دوسرے سے مشورہ لینے کے محتاج نہیں بلکہ وہ خود ہی فیصلہ فرماتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے دربار میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا ،لہٰذا جس انسان کیلئے اس کے جرائم کے مطابق صرف عذابِ قبر ہی طے فرمادیا ہے تو اسے فقط عذاب قبر ہی ہوگا اور جس کیلئے عذابِ آخرت طے فرمادیا ہے اسے وہیں عذاب ہوگا قبر میں نہیں، اور جس کیلئے دونوں جگہ عذاب دینا طے فرمادیا ہے اسے دونوں جگہ عذاب دیا جائے گا اور یہ ہر انسان کے اپنے اعمال و افعال پر منحصر ہے۔
لہٰذا سائل کا بطورِ تمثیل چودہ (۱۴) سال کی مثال بیان کرنا ایک فرضی اور من گھڑت بات ہے جسے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ محض قیل وقال پر مبنی ہے اور عام طور پر اس قسم کی قیل وقال اور بے بنیاد باتیں ہلاکت وگمراہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں، اس لئے سائل کو چاہئے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے والی اس قسم کی بے بنیاد باتوں سے احتراز کرے۔
قال تعالٰی: فأما من ثقلت موازینہ فھو فی عیشۃراضیۃ واما خفت موازینہ فأمہ ھاویۃ۔ الآیۃ (سورۃ القارعۃ)
وقال تعالٰی: فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرًا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرًا یرہٗ۔ الآیۃ (سورۃ العادیات)
وفی الصحیح لمسلم: ذکر عند عائشۃ ان ابن عمر یرفع إلٰی النبی ﷺ ان المیت یعذب فی قبرہ ببکاء أھلہ فقالت وَھَِل (ای نِسَی) انما قال رسول اﷲ ﷺ انہ لیعذب بخطیئتہ أو بذنبہ وان اھلہ لیبکون علیہ الآن۔ الخ (الحدیث) (ج۱، ص۳۰۳) ………………………… واﷲ اعلم!
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0