قربانی کا بکرا تبدیل کیاجاسکتاہے؟
واضح ہو کہ قربانی کا جانورخریدنے اور متعین کرنے کے بعد بلاوجہ اسے تبدیل کرنا مناسب نہیں ہے، بلکہ اسی جانور کی قربانی کرنی چاہیے، تاہم اگر صاحبِ نصاب شخص قربانی کے لیے خریدے گئے بکرے کو تبدیل کرکے دوسرے جانور کی قربانی کرلے، تو یہ قربانی شرعا ادا ہوجائے گی، البتہ پہلا بکرا فروخت کرکے دوسراجانور یا حصہ خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھناضروری ہے، کہ دوسرے جانور یا حصہ کی قیمت پہلے جانور کی قیمت کے برابر یا اس سے زائدہو، ورنہ پہلے جانورسے کم قیمت پر جانورخریدنے کی صورت میں اضافی رقم صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔
اور اگروہ شخص صاحبِ نصاب نہ ہو ں تو قربانی کی نیت سے خریدے گئے متعین جانور (بکرے)کی قربانی کرنالازم ہے،ان کے لیے یہ جانورتبدیل کرنا جائز نہیں۔
بدائع الصنائع: (62/5، ط: دار الکتب العلمیة)
"أَنَّ الشِّرَاء َ لِلْأُضْحِیَّةِ مِمَّنْ لَا أُضْحِیَّةَ عَلَیْه یَجْرِی مَجْرَی الْإِیجَابِ وَهوَ النَّذْرُ بِالتَّضْحِیَةِ عُرْفًا؛ لِأَنَّهُ إذَا اشْتَرَی لِلْأُضْحِیَّةِ مَعَ فَقْرِہِ فَالظَّاہِرُ أَنَّه یُضَحِّی فَیَصِیرُ کَأَنَّهُ قَالَ : جَعَلْت هذِہِ الشَّاةَ أُضْحِیَّةً ، بِخِلَافِ الْغَنِیِّ ؛ لِأَنَّ الْأُضْحِیَّةَ وَاجِبَةٌ عَلَیْهِ بِإِیجَابِ الشَّرْعِ ابْتِدَاء ً فَلَا یَکُونُ شِرَاؤُہُ لِلْأُضْحِیَّةِ إیجَابًا بَلْ یَکُونُ قَصْدًا إلَی تَفْرِیغِ مَا فِی ذِمَّتِه".