السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
پراویڈنٹ فنڈ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں؟ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہماری کمپنی پراویڈنٹ فنڈ کی رقم تیسری پارٹی کو دیتی ہے اور وہ اسے سود کی بنیاد پر کاروبار میں لگاتی ہے، اور بعد میں سود سمیت ہماری کمپنی کو واپس کردیتی ہے، جس سے ہمیں بطور پراویڈنٹ رقم دی جاتی ہے۔
علاج معالجہ کے خرچے کی وصولی کے متعلق معلوم کرنا ہے، کمپنی اپنے ملازمین کے علاج معالجے کے اخراجات پوری کرتی ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ بیماری کے حالت میں لی گئی دوائی وغیرہ صحت یاب ہونے کے بعد بغیر استعمال کے بچ جائے تو آیا اسے فارمیسی میں واپس دیکر اس کے عوض پیسے لے سکتے ہیں؟ اس کے عوض دیگر دوائیاں لینا صحیح ہے؟اس کے عوض دیگر اشیاء جیسے ٹوٹھ برش ، بےبی پیمپر وغیرہ لے سکتے ہیں؟ آیا ہم بانڈز سیونگ اسکیم وغیرہ میں پیسے لگا سکتے ہیں؟ اور مختلف ممالک کی کرنسی خرید کر بھاؤ بڑھنے پر بیچ کر نفع حاصل کرنا جائز ہے؟
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو کٹوتی ہوتی ہے، اور پھر اس پر کمپنی کی طرف سے جو سود ملتا ہے وہ شرعاً سود نہیں ملازم کے لئے اس کا لینا درست ہے، البتہ اگر وہ فنڈ اختیاری ہو تو ملازم کے لئے اس کالینا درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے ۔
(2)کمپنی کی طرف سے علاج معالجے کے لئے جو دوائیاں ملتی ہیں، اگر کمپنی نے یہ شرط نہ لگائی ہو کہ جو دوائی بچ جائے اس کو واپس کیا جائے تو اس میں ملازم کے لئے ہر قسم کا تصرف جائز ہے، ورنہ زائد دوائی کمپنی کے متعلقہ اسٹور پر لوٹانا لازم ہے۔
(3)بانڈز سیونگ اسکیم میں پیسے لگانا درست نہیں کیونکہ یہ سود اور جوے کا مجموعہ ہے جیسا کہ منسلکہ تفصیلی فتوے کی کاپی ملاحظہ کی جاسکتی ہے، جبکہ مختلف ممالک کی کرنسیاں خرید کر بھاؤ بڑھنے پر انہیں بیچ کر نفع حاصل کرنا جائز ہے بشرطیکہ معاملہ نقد ہو یعنی ادھا معاملہ نہ کیا جائے اس طرح اس عمل پر حکومتی پابندی بھی نہ ہو۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1