آج کل اجتماعی قربانی کرانے والے حضرات لوگوں سے پیسے لیتے ہیں،لیکن کسی جانور میں ان کا حصہ متعین نہیں کرتے،بلکہ عید والے دن ان کو کلو کے حساب سے گوشت تول کر دیتے ہیں،کیا اس صورت میں ان کی قربانی درست ہوگی یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
واضح ہوکہ لوگوں کی طرف سے اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے ادارے یا افراد بحیثیتِ مجموعی حصہ داروں کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں اور ان پر اس معاملہ میں وکالت ہی کے احکام لاگو ہوں گے، لہذا ان پر لازم ہے کہ جانور خریدتے وقت یہ متعین کرلیں کہ یہ جانور فلاں فلاں حصہ داروں میں مشترک ہے،تاکہ بعد میں اگر جانور معیوب ہوجائے تو یہ معلوم ہوکہ یہ فلاں حصہ داروں کا جانور ہے،انہی پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا بھی لازم ہوگا، تاہم اگر خریداری کے وقت جانور متعین نہیں کیا گیا تو ذبح سے پہلے اس کی تعیین کرنا ضروری ہے،تاکہ ہر ایک کی طرف سے قربانی درست ہو، چنانچہ لوگوں کی طرف سے اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والوں کو مذکور تفصیل کے مطابق عمل کرنا لازم ہے،البتہ اگر کسی خاص ادارے میں حصہ داروں کا جانور خریدتے وقت یا ذبح کرتے وقت شرکاء کو متعین کیے بغیر محض قربانی کے جانور ذبح کیے جاتے ہوں،تو ایسے ادارے میں اجتماعی قربانی کا حصہ لینے سے اجتناب لازم ہے اور اس طرح کی قربانی بھی درست نہ ہوگی۔
کمافی الشامیة:(قوله وشرعا ذبح حيوان) كذا في العناية. والذي في الدرر أنها اسم لحيوان مخصوص، وكذا قال ابن الكمال: هي ما يذبح، وكتب في هامشه أن من قال ذبح حيوان فكأنه لم يفرق بين الأضحية والتضحية اهـ وقد خطر لي قبل رؤيته (قوله مخصوص) أي نوعا وسنا ط (قوله بنية القربة) أي المعهودة وهي التضحية. قال في البدائع: فلا تجزئ التضحية بدونها اھ(6/312)۔
و فی الدر المختار: (وصح) (اشتراك ستة في بدنة شريت لأضحية) أي إن نوى وقت الشراء الاشتراك صح استحسانا وإلا لا (استحسانا وذا) أي الاشتراك (قبل الشراء أحب الخ
وفی الشامیة (قوله أي إن نوى وقت الشراء الاشتراك صح استحسانا وإلا لا)(الیٰ قوله) وفي الهداية: والأحسن أن يفعل ذلك قبل الشراء ليكون أبعد عن الخلاف وعن صورة الرجوع في القربة اھ(6/317)۔
وفی بدائع الصنائع: أما الذي يرجع إلى من عليه التضحية فمنها نية الأضحية لا تجزي الأضحية بدونها؛ لأن الذبح قد يكون للحم وقد يكون للقربة والفعل لا يقع قربة بدون النية؛قال النبي - عليه الصلاة والسلام - «لا عمل لمن لا نية له» والمراد منه عمل هو قربة؛ وللقربة جهات من المتعة والقران والإحصار وجزاء الصيد وكفارة الحلق وغيره من المحظورات فلا تتعين الأضحية إلا بالنية؛ وقال النبي - عليه الصلاة والسلام - «إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى» ويكفيه أن ينوي بقلبه ولا يشترط أن يقول بلسانه ما نوى بقلبه كما في الصلاة؛ لأن النية عمل القلب، والذكر باللسان دليل عليها اھ(5/71)۔
وفی الاشباہ والنظائر:فلابد فیھا من النیة لکن عند الشراء لاعند الذبح اھ(ص/29)۔