السلام علیکم ، پانچ بہنوں میں سے چار کی شادی ہو گئی ہے ، اب آخری والی کے حصہ میں ماں آئی ہے جو کہ بوڑھی ہے، کیونکہ باپ فوت ہو چکا ہے اور لڑکی کی بھی منگنی ہو گئی ہے، لڑکی کو یہی بات پریشان کرتی ہے کہ ماں کو اس حال میں چھوڑ کر کیسے شادی کروں یہ نہ ہو کہ بوڑھی ماں کو اس حالت میں چھوڑ دوں تو گناہ گار رہوں اللہ کے نزدیک ؟
صورت مسئولہ میں اگر والدہ کی خدمت کے لیے اور کوئی انتظام ہو تو ایسی صورت میں مذکور لڑ کی اپنی شادی بلا خوف کر سکتی ہے، البتہ اگر والدہ کی خدمت اور دیکھ بال کے لیے کوئی انتظام نہ ہو تو ایسی صورت میں شادی کر کے شوہر کو گھر داماد بنا سکتی ہے یا پھر اپنے میکے کے قریب میں گھر لیکر شادی کر سکتی ہیں تاکہ والدہ کی خدمت اور اپنی شادی کا فریضہ بھی ادا کر سکے۔
كما في تنزيل القرآن: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا } [الإسراء: 23، 24]
و في مشكاة المصابيح: عن ابن عمر وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رغم أنفه رغم أنفه رغم أنفه». قيل: من يا رسول الله؟ قال: «من أدرك والديه عند الكبر أحدهما أو كلاهما ثم لم يدخل الجنة». وراه مسلم اھ (3/ 1376)
وفيه ايضا: وعن أبی أمامة أن رجلا قال: يا رسول الله ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما جنتك ونارك». رواه ابن ماجه اھ (3/ 1382) والله اعلم بالصواب