کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ دودھ کے لیے رکھی ہوئی بھینس قربانی کے نصاب میں شمار ہو گی یانہیں باحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
دودھ کے لیے رکھی ہوئی بھینس حاجت اصلیہ میں داخل ہے اس لیے اس کو نصاب میں شامل نہیں کیا جائیگا، البتہ اس کے علاوہ اگر مذکورہ شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو تو اس پر قربانی واجب ہو گی۔ ورنہ نہیں۔
ففي الفتاوى الهندية: والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره (الى قوله) و في الفتاوى الدهقان ليس بغني بفرس واحد وبحمار واحد فإن كان له فرسان أو حماران أحدهما يساوي مائتين فهو نصاب والزارع بثورين وآلة الفدان ليس بغني اھ (5/ 292) والله اعلم بالصواب