کیا ہم ایسے جانور میں حصے ڈال سکتے ہیں، جس میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہو،جنہوں نے اپنا حصہ پرائز بانڈ کی انعامی رقم سے ڈالا ہے؟ یا اگر وہ یہ بولے کہ انعامی رقم کی تو میں نے گاڑی لے لی ہے اور یہ حصہ میری حلال کمائی کا ہے تو اس بارے میں کیا حکم ہے ؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
اگر یقینی ذرائع سے یہ معلوم ہوجائے کہ کسی شریک نے پرائز بانڈ کی انعامی رقم سے کسی بڑے جانور کی قربانی میں حصہ ڈالا ہے تو اس کی وجہ سے دیگر شرکاء کی قربانی بھی درست نہ ہوگی، البتہ اگر یہ بات یقینی طور پر معلوم نہ ہو،بلکہ محض شک ہو یا وہ خود اس بات کی صراحت کردے کہ اس نے اپنی حلال کمائی سے قربانی کے جانور میں حصہ ڈالا ہےتو ایسی صورت میں تمام شرکاء کی قربانی بلاشبہ درست ہوگی۔
کما فی صحیح مسلم: عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ۔ﷺ۔ أیھا الناس ان اللہ طیب لایقبل الا طیبا الخ(صحیح مسلم للنیسابوری۔ج3/ص85/ح:2393)۔
وفی الھندیة:وإن كان كل واحد منهم صبيا أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانيا ونحو ذلك لا يجوز للآخرين أيضا كذا في السراجية ولو كان أحد الشركاء ذميا كتابيا أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لا يتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقة بالعدم، فكأن يريد اللحم والمسلم لو أراد اللحم لا يجوز عندنا اھ(5/304)۔
وفیه أیضاً: آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه اھ(5/343)۔
وفی تکملة فتح الملھم: ان کان لایتعدی ضررہ الیٰ غیرہ فلاحاجة للمحتسب ان یتجسس فی امرہ(الیٰ قوله)اما اذا تعدی ضررہ الیٰ احد غیرہ او الیٰ المجتمع بصفة عامة،فانه یجوز للمحتسب او لمؤظف آخر منصوب من قبل الحکومة لھذا الغرض ان یھجم علیه وعلی ذلك یحمل قول أبی یوسف۔رحمه اللہ تعالیٰ۔ ویحتمل ان یوفق بذلك فیما بین الوقائع المختلفة لسیدنا عمر۔رضی اللہ عنہ۔فالتجسس الممنوع ھو ماکان لمجرد الاطلاع علی عورات الناس وھتك سترھم لإخزاءھم،اما ماکان لغرض اجتماعی مقبول مثل ماذکرنا فلیس من التجسس المحظور اھ(5/360)۔