السلام علیکم مفتی صاحب! میں ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کرنا چاہ رہا ہو تو کچھ سوالات کے جوابات چاہیےتھے کہ ایلینئیٹ مارکنگ میں ہم لوگوں کی پروڈکٹ کو اپنی ویب سائٹ پر لگا کر بیچنے کی کوشش کرتے ہے (لنک کے ذریعہ) تو ہمیں اس بارے میں علم نہیں ہوتا کہ یہ جن لوگوں کا سامان بیچ رہے ہیں کہ کیا ان کے پاس وہ چیز موجود بھی ہے کہ نہیں؟ میں نے ایک ویب سائٹ کہ متعلق سرچ کیا کہ کیا یہ ڈروپ شپنگ ویب سائٹ ہے تو اس میں آیا کہ آپ ڈراپ شپنگ بھی کر سکتے ہے کہ آپ اس ویب سائٹ پر ڈراپ شپنگ کر سکتے ہو؟ لیکن مجھے اس بارے میں علم نہیں کہ اس ویب سائٹ پر ہر کوئی ڈراپ شپنگ کرتا ہے ممکن ہے کہ کچھ لوگ ڈراپ شپنگ کا جائز طریقہ اختیار کرتے ہو، یا کچھ لوگوں کے پاس واقعی چیز موجود ہوتی ہو تو کیا میں کر سکتا ہوں؟ ایسی ویب سائٹ کہ پراڈکٹ کی ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کر سکتا ہوں ؟ (۲) ایمازون ایفیلئیٹ مارکیٹنگ شروع کرنےلگا ہوں ، لیکن ایک بات تنگ کر رہی ہے کہ ایمازون میں کچھ لوگ سامان غیر شرعی طور پر بیچ رہے ہوتے ہیں،لیکن سارے ایسا نہیں کرتے تو کیا مجھے جو پراڈکٹ بیچنے پر کمیشن ملے گا وہ حلال یا حرام ہو گا ؟ ایمازون ڈراپ شپنگ کی اجازت نہیں دیتا ،لیکن لوگ پھر بھی کرتے ہیں، اس کے بر عکس بہت سے ایسے لوگ جو کہ ایمازون ف ? بی ؟ اے سے پیسے کماتے ہے ؟ تو کیا مجھے جو کمیشن ملے گی اس کا کیا حکم ہوگا؟
(1) ہمارے معلومات کے مطابق ایفیلئیٹ مارکیٹنگ Affiliate Marketing " کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جتنی بھی ای کامرس ویب سائٹس ہیں یہ اپنا ایک ایفیلئیٹ پروگرام متعارف کرواتی ہیں، اس پروگرام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پروگرام کے ممبر بن کر ان کی پراڈکٹ کی تشہیر کریں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ ممبر بن جاتے ہیں وہ ان ویب سائٹس پر موجود بیچی جانے والی اشیاء میں سے کسی چیز کا لنک تشکیل ( link Generate) دیتے ہیں، اور یہ لنک اپنے متعلقین کو بذریعہ فیس بک یا واٹس ایپ بھیجتے ہیں، لہذا جو لوگ اس لنک کے ذریعہ سے متعلقہ ویب سائٹ پر جا کر اس کی وزٹ کرے، تو اس لنک کے تشکیل دینے والے کو اس چیز کی قیمت کا ایک مخصوص فیصد بطور کمیشن ملتا ہے۔ مذکور بالا طریقہ کارشر عا جائز ہے اور اس میں لنک تشکیل دینے والے کی حیثیت اجیر کی ہے ، یعنی اس کا کام ویب سائٹ پر بیچی جانے والی اشیاء کا لنک تشکیل دے کر لوگوں کو اس چیز کی خریداری کی طرف راغب کرنا اور مخصوص ویب سائٹ تک لے کر جانا ہے، لہذا اس صورت میں لنک تشکیل دینے والے کو جو کمیشن ملے گاوہ اس کے لیے جائز ہو گا، البتہ ضروری ہے کہ جتنا کمیشن ملنا ہو وہ پہلے سے طے ہو، اس میں کسی قسم کی جہالت نہ ہو، نیز یہ تشہیر حرام پراڈکٹ کی نہ ہو ، اور نہ ہی غیر شرعی امور پر مشتمل ہو۔
(2) ڈراپ شپنگ (Dropshieping) کی بارے میں تفصیل یہ ہے کہ خرید و فروخت کے جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ورنہ بیع شرعا جائز نہ ہو گی، بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہو گی۔
جبکہ ڈراپ شپنگ میں کاروبار کرنے والے کا حسی یا معنوی طور پر کوئی اسٹور موجود نہیں ہوتا ،جس میں وہ سامان کا اسٹاک رکھے ، اس لیے جب کوئی چیز اپنے گاہک کو بیچتا ہے تو وہ عقد کے وقت اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی، بلکہ خریداری کا معاہدہ ہو جانے کے بعد خرید کر گاہک کو دید یتا ہے ، لہذا غیر مملوک چیز کی بیع ہونے کی بناء مذکور معاملہ شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اس کے جواز کی دوصور تیں ہو سکتی ہیں: ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں، بلکہ یہ کہے کہ اس چیز کے بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں، اس طرح یہ بیع نہیں، بلکہ وعدہ بیع ہو جاتا ہے اور اس وقت رقم لینا ہامش الجدیہ (پیشگی ادائیگی) کے طور پر درست ہو گا، پھر وہ ہول سیلر دوکاندار سے مطلوبہ آیٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے لیں کہ وہ چیز فروخت کرنے والے کے ضمان میں آجائے، تب خریدار کو فروخت کر کے ڈیلیور کر دے۔
دوسری جائز متبادل صورت وکالت / دلال کی ہے کہ آرڈر لینے والا ہول سیلر یاد دکاندار کی طرف سے وکیل کے طور پر سامان لے کر گاہک تک پہنچائے یا وہ ہول سیلر /دوکاندار از خود کسٹمر تک پہنچادے اور اپنی محنت کی طے شد واجرت لے ، تو اس صورت میں اصل بائع ہول سیلر پائے، وہ ہول سیلر یا دوکاندار ہوگا اور آرڈر دینے والے کی حیثیت ایک بروکر کی ہ،و گی جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے، جس پر مقررہ اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل اھ (6/ 47)۔
كما في الهداية شرح البداية: قال ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد لأنه باع ما لا يملكه ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد لأنه غير مقدور التسليم ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها ولو كان يؤخذ من غيره حيلة جاز إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المثل لعدم الملك اھ (3/ 43)۔
كما في فتح القدير للكمال ابن الهمام: ومثل الأمر المضارع المقرون بالسين نحو سأبيعك فلا يصح بيعا ولا يتجوز به في معنى بعتك في الحال.فإن ذكر السين يناقض إرادة الحال اھ (6/ 251)۔
كما في حاشية ابن عابدين: و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة اھ (6/ 63) واللہ أعلم بالصواب!