جناب میں دوحہ قطر آ یا ھوں چونکہ کرونا وبا کی وجہ سے 14 دن قرنطینہ میں رہنا ہے اس وجہ سے میں اپنے پرانے کمرے میں نہیں جا سکتا نماز کا قصر کروں یا پورا ؟
سائل کو اگرچہ 14 دن قرنطین ہونے سے قبل اپنے کمرے میں جانے کی اجازت نہ ہو لیکن مذکور قرنطینہ سنٹر اگر سائل کے شہر میں واقع ہو جہاں سائل کی قیام گاہ ہے، تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ مکمل نماز پڑھنی لازم ہوگی ، البتہ اگر مذکور سنٹر سائل کے شہر کی رہائش گاہ سے دور (اٹھہتر کلو میٹر کے فاصلے پر )مستقل علیحدہ مقام پر واقع ہو اور وہاں سائل نے فقط چودہ دن ٹھہرنے کی نیت کی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ اپنی انفرادی نمازوں میں قصر کرنا لازم ہوگا۔
كما في الفتاوى الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية هذا إذا سار ثلاثة أيام أما إذا لم يسر ثلاثة أيام فعزم على الرجوع أو نوى الإقامة يصير مقيما وإن كان في المفازة ونية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط: ترك السير حتى لو نوى الإقامة وهو يسير لم يصح وصلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح، واتحاد الموضع والمدة، والاستقلال بالرأي، هكذا في معراج الدراية (139/1) .
وفيه ايضاً: وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر هكذا في الهداية (1/ 139)۔
وفي النتف في الفتاوى للسغدي: ما يصير بِهِ الرجل مُسَافِرًا ويصير الرجل مُسَافِرًا بشيئين 1- بِخُرُوجِهِ من بَلَده 2- مَعَ نِيَّة السّفر ما يصير به الرجل مقيما ويصيرمقيما بشيئين 1- أحدهما إذا عزم عَلي إِقَامَة خَمْسَة عشر يَوْمًا أَيْنَ مَا كَانَ الَا فِي ثَلَاثَة أماكن أحدهَا فِي السَّفِينَة في وسط الْبَحْرِ وَالثَّانِي فِي وسط الْمَفَازَةِ الْمُهْلَكَةِ وَالثَّالِثَ فِي دار الْحَرْبِ اهـ (76/1)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4