السلام علیکم ! میں نے جامعہ بنوریہ کا فتوی نمبر ۳۰۷۵۷ پڑھا تھا جو کہ بینک کی نوکری سے متعلق تھا فتویٰ میں بینک کی ملازمت کے بار ے میں دو قسم کی رائے تھیں، مگر کوئی حتمی فیصلہ نہ تھا مجھے بینک اور انشورنس کمپنیوں کے علاوہ ملازمت ملنی دشوار ہے اور میں موجودہ ملازمت سے بہت تنگ ہوں نہ صرف یہ کہ مجھے مالی اعتبار سے تنگی ہے، بلکہ اور بھی بہت سی پریشانیاں ہیں، میں ہمیشہ بینک کی ملازمت سے بچتا رہا ہوں ، کیا آپ میری راہ نمائی فرما سکتے ہیں میں بینک یا انشورنس کمپنی میں آڈٹ جاب کر سکتا ہوں کہ جس میں مجھے کمپنی کے صرف نظام اور حساب کو دیکھنا ہوگا ، میں بلا واسطہ کسی بھی سودی معاملات میں ملوث نہیں ہوں گا؟ برائے مہربانی آپ مجھے بتائیے کہ کیا اس کی اجازت ہے یا نہیں ؟ میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہ العالیہ کا فتوی پڑھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ بینک میں کسی قسم کی ملازمت بھی جائز نہیں، جبکہ بعض عرب علماء اس کی اجازت دیتے ہیں ، بہت بہت شکریہ جزاک اللہ خیرا!
کسی بینک یا انشورنس کمپنی کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہو جیسے منیجر ، کیشیئر ، ویزہ کی ملازمت یہ شرعاً نا جائز ہے اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے، لیکن ان اداروں کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہیں نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہے نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکیداری یا کوکنگ وغیرہ کی ملازمت ، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے آمدنی کے متعلق علماء کرام کی آراء مختلف ہیں بعض علماء کرام اس ملازمت کی گنجائش بیان کرتے ہیں اور دوسرے بعض اس سے بھی منع فرماتے ہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ بینک اور انشورنس کمپنی کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، مگر ان کی معاونت لازم آتی ہو ،لہذا سائل کو کسی بینک یا انشورنس کمپنی کی ایسی ملازمت میسر ہو جس کا سودی معاملات کے ساتھ کسی قسم کا عمل دخل نہ ہو ، وہ کوئی دوسرا کام بھی نہ جانتا ہو تو اس صورت میں سائل کے لیے مجبوراً آئی ٹی وغیرہ کی نوکری کرنے کی گنجائش ہے ۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)