محترم جناب مفتی صاحب!انٹرنیٹ کے ذریعہ فارن کرنسی (باہر ممالک کی کرنسی ) کا کاروبار کیسا ہے ؟ اگر وہ شخص اپنی ذاتی رقم کے عوض کر رہا ہو نہ کہ کسی مالی یا سودی نظام کی بنیاد کے سہارے سے ؟
واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں فارن کرنسی کا کاروبار (ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ کمی اور زیادتی کیساتھ خرید و فروخت کرنا) شرعاً جائز اور درست ہے، اور جنس مختلف ہونے کی بناء پر ربوا بھی لازم نہیں آئیگا، البتہ اگر ایک جانب سے نقد اور دوسری جانب سے ادھار ہو تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں، بلکہ دونوں جانب سے نقد ہونا ضروری ہے۔
وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام: فتح القدير للكمال ابن الهمام : (وإن باع الذهب بالفضة جاز التفاضل) لعدم المجانسة (ووجب التقابض) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «الذهب بالورق ربا إلا هاء وهاء» (فإن افترقا في الصرف قبل قبض العوضين أو أحدهما بطل العقد) (7/ 137)۔
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0