برائے مہربانی ہمیں "ربا" کے بارے میں قرآن و حدیث سے مطلع فرمائیں۔
سائل نے ربا کے متعلق کوئی واضح طرح کا سوال نہیں پوچھا تا کہ خاص اس کے متعلق جواب دیا جاتا، تاہم لفظ ”ربا“ لغت میں بڑھوتری کو کہتے ہیں، جبکہ اصطلاح شریعت میں” ربا“ عقود معاوضہ میں ہر اس اضافے کو کہتے ہیں جو کسی مالی عوض کے بغیر حاصل ہو، لہذا اس میں قرض پر نفع حاصل کرنا بھی شامل ہے ، اور اس میں خرید و فروخت کی وہ صورتیں بھی داخل ہو جاتی ہیں جن میں کوئی زیادتی بلا معاوضہ حاصل کی جائے، جبکہ ”ربا“ کی حرمت کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے ، البتہ سائل کو اگر مزید بھی تحقیق مطلوب ہو تو اس کے لیے” مسئلہ سود“ نامی رسالے کا مطالعہ مفید رہے گا، اس کے باوجود بھی اگر سائل کو ربا کے متعلق کوئی خاص شبہ یا اشکال در پیش ہو تو اس کو بھی لکھ کر دوبارہ ای میل کر دے ، اس پر غور و فکر کرنے کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
قال الله تبارك وتعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في الجوهرة النيرة: ( باب الربا ) الربا في اللغة هو الزيادة ، و في الشرع عبارة عن عقد فاسد بصفة سواء كان هناك زيادة ، أو لا ألا ترى أن بيع الدراهم بالدراهم نسيئة ربا وليس فيه زيادة والربا حرام بالكتاب والسنة ، أما الكتاب فقوله : تعالى { وحرم الربا } ، وأما السنة فقوله : صلى الله عليه وسلم { أكل درهم واحد من الربا أشد من ثلاث وثلاثين زنية يزنيها الرجل ومن نبت لحمه من حرام فالنار أولى به } وقال ابن مسعود { آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهده إذا علموا به ملعونون على لسان محمد صلى الله عليه وسلم إلى يوم القيامة } كذا في النهاية . (2/ 298) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1