بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کا سارا نظام سود پر چل رہا ہے ، جب بھی ہم کسی کو کہتے ہیں تو وہ ہمیں جواب دیتے ہیں کہ پاکستان IMF سے جو قرضہ لیتا ہے اس پر جو سود ہے تو اس میں تو سارا نظام سود سے چل رہا ہے ، اس کا کیا جواب ہے ؟
یہ کہنا کہ پاکستان کا سارا نظام سود پر چلتا ہے غلط ہے، البتہ آئی ایم ایف، یا کسی مالیاتی ادارے سے سود پر قرضہ لینا ناجائز و حرام ہے، جس کے ذمہ دار وہ حضرات ہونگے جنہوں نے سودی قرضہ لیا، ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ فوری سودی قرضہ سے نکلنے کی پوری کوشش کریں اور آئندہ سودی قرضوں سے ملک کی معیشت کو چلانے سے احتراز کریں۔
کما فى احكام القرآن للجصاص: أنه معلوم ان الربا بالجاهلية انما كان قرضا مؤجلا بزيادة مشروطة فكانت الزيادة بدلا من الأجل فابطل الله تعالى وحرمه وقال: (وان تبتم فلكم رؤس اموالكم) وقال تعالى: (وذروا ما بقی من الربا) خظر أن يؤخذ للأجل عوض(1/467)
وفيه ايضا: قوله تعالى: (وحرم الربا) اى حرم جميعها لشمول الاسم عليها من طريق الشرع (1/465)
وفي المبسوط للسرخسي : وحجتنا في ذلك ان الحكم الغالب، واذا كان الغالب
هو الحرام كان الكل حراما في وجوب الاجتناب عنها (10/197)
وفي الهنديه: اهدى إلى رجل شيئا او اضافه ان كان الغالب ماله من الحلال فلاباس به الا ان يتعلم بانه حرام. (الى قوله) لان اموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا اكل طعامهم (5/342)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1