سرکاری اعتبار سے شہر الگ الگ ہوں ، مثلاً پنڈی، اسلام آباد ، لیکن آبادی کے اعتبار سے بعض مقامات ملے ہوۓ ہوں، اب اسلام آباد کا مقیم جب سفر کے لۓ مردان جائے گا ، جو نہی شہر سے نکلے اور نماز کا وقت ہو جائے، لیکن یہ پنڈی کے حدود میں ہے ، اب اس مقام پر یہ قصر پڑھے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرما کر مدلل جواب سے نوازیں۔
ایسے دو شہر جو اپنی حدود کے اعتبار سے مختلف ہوں ، لیکن بعض مقامات پر ان کی آبادی ملی ہوئی ہو ، مثلاً اسلام آباد ، پنڈی ، تو ایسی صورت میں جب ایک شہر مثلاً اسلام آباد کا مقیم شخص سفر کے ارادے سے اسلام آباد کے حدود سے نکلے گا تو وہ اگرچہ دوسرے شہر پنڈی کے حدود سے نہ نکلا ہو ، تب بھی اس کے ذمہ نماز میں قصر کرنا لازم ہوگا۔
فی الفتاوى الهندية : قال محمد - رحمه الله تعالى - يقصر حين يخرج من مصره و يخلف دور المصر ، كذا في المحيط و في الغياثية هو المختار و عليه الفتوى ، كذا في التتارخانية الصحيح ما ذكر أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر لا غير إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر فحينئذ تعتبر مجاوزة القرى بخلاف القرية التي تكون متصلة بفناء المصر فإنه يقصر الصلاة و إن لم يجاوز تلك القرية ، كذا في المحيط . (1/ 139)۔
و فی بدائع الصنائع : فالذی یصیر المقیم به مسافرا نیة مدة السفر الخروج من عمران المصر اھ (۱/ ۹۳)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4