محترم جناب مفتی صاحب مجھے رہنمائی کریں کہ اگر بیوی کو حیض ہو تو اس صورت میں کس حد تک بیوی سے صحبت کی جاسکتی ہے؟ اور کیا اس صورت میں بیوی کے ہاتھ سے تسکین لی جاسکتی ہے؟ اور کیا بیوی دورانِ صحبت مرد کی شرم گاہ کو ہاتھ لگاسکتی ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادی جائے۔
حیض کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا اور ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے سے بلا کسی حائل کے تسکین حاصل کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے کے علاوہ بیوی کے باقی جسم سے محظوظ ہونے یا بیوی کیلئے شوہر کے شرمگاہ کو ہاتھ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الشامیۃ: (وقربان ما تحت الإزار) من اضافۃ المصدر الی مفعولہ والتقدیر، ویمنع الحیض قربان زوجہا ما تحت إزارہا کما فی البحر قولہ: (یعنی ما بین سرۃ ورکبۃ) فیجوز الاستمتاع بالسرۃ وما فوقہا والرکبۃ وما تحتہا ولو بلا حائل۔ وکذا بما بینہما بحائل بغیر الوطء ولو تلطخ دمًا ولا یکرہ طبخہا ولا استعمال ما مستہ من عجین اوماء او نحوہما إلا اذا توضات بقصد القربۃ کما ہو المستحب فانہ یصیر مستعملا وفی السراج: یکرہ ان یعزلہا فی موضع لا یخالطہا۔ ہذا واعلم ان المصرح بہٖ عندنا فی کتاب (الحظر والاباحۃ) ان الرکبۃ من العورۃ ومقتضاہ کما افادہ الرحمتی حرمۃ الاستمتاع بالرکبۃ لاستدلالہم ہنا بقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام مادون الإزار ومحلہ العورۃ التی یدخل فیہا الرکبۃ۔ (ج۱، ص۵۳۴)۔
وفی الشامیۃ: رواہ الطبرانی فی الکبیر بلفظ (ما فوق الإزار حلال وتحت الإزار منہا حرام) یعنی من الحائض۔ (ج۱، ص۵۳۴)۔
وفی الہندیۃ: قال اَبو یوسفؒ سألت أبا حنیفۃ عن رجل یمس فرج إمراتہ وہی تمس فرجہ لتحرک آلتہ ہل تری بذلک بأسا قال لا وأرجو أن یعطی الاجر کذا فی الخلاصۃ۔ (ج۵، ص۳۲۸)۔
وفی الدر المختار: الاستمناء بالکف وان کرہ تحریما لحدیث ناکح الید ملعون ولو خاف الزنی یرجی ان لا وبال علیہ۔ (ج۲، ص۳۹۹)۔ واللہ اعلم بالصواب
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0