میں شرعی پردہ کے متعلق سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ میں تمام غیر محارم مردوں سے شرعی پر دہ کرتی ہوں ، اور اپنے جیٹھ وغیرہ سے بھی کرتی ہوں، اور اس دوران گھر میں ٹوپی والا برقہ پہن کر کام کے لیے نکلتی ہوں، لیکن حضرت اب میرا شوہر مجھے اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ میں اپنے جیٹھ کے بیٹے سے جبکہ اس کی عمر بارہ (12) سال سے اوپر ہو چکی ہے، پر دہ نہ کروں ، اور اسی طرح نند کے بیٹوں سے بھی ، پھر گھر میں فساد آئیگا، حضرت میں پردو کرنے پر ڈٹی ہوئی ہوں۔ اس صورتحال میں ، میں کیا کروں؟ کس قسم کا پردہ ان سے کروں؟
واضح ہو کہ جیٹھ اور نند کے بیٹے بھی غیر محارم ہیں، دیگر غیر محارم کی طرح ان سے بھی پر دہ لازم ہے ، مگر جو ائنٹ فیملی سسٹم میں خصوصا جس معاشرہ میں پردہ کا ماحول نہ ہو ،تو ماحول بننے تک سائلہ ایسی بڑی چادر جس سے اس کا تما م جسم بشمول بالوں کے ڈھک جاتا ہو پہن کر ، اور اسی سے چہرے پر ہلکا سے گھونگھٹ ڈال کر ،بوقت ضرورت غیر محارم عزیز رشتہ داروں کے سامنے آ جاسکتی ہیں، البتہ ان غیر محارم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا، ان کے ساتھ بے تکلف ہونا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في صحيح مسلم: عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء» فقال: رجل من الأنصار: يا رسول الله أفرأيت الحمو؟ قال: «الحمو الموت» اھ (4/ 1711)
وفي شرح النووي على مسلم: قوله صلى الله عليه وسلم الحمو الموت فمعناه أن الخوف منه أكثر من غيره والشر يتوقع منه والفتنة أكثر لتمكنه من الوصول إلى المرأة والخلوة من غير أن ينكر عليه بخلاف الأجنبى والمراد بالحمو هنا أقارب الزوج غير آبائه وأبنائه فأما الآباء والأبناء فمحارم لزوجته تجوزلهم الخلوة بها ولايوصفون بالموت وانما المراد الأخ وبن الأخ والعم وابنه ونحوهم ممن ليس بمحرم وعادة الناس المساهلة فيه ويخلو بامرأة أخيه فهذا هو الموت وهو أولى بالمنع من الأجنبي اھ (14/ 154)
وفي الدر المختار: (وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) على المعتمد، وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ اھ (1/ 405، 406)