Fiverr.com کے نام سے ایک کمپنی Freelancing کا کام دیتی ہے، جس پر انگریز اور عربی کام لیتے ہیں مگر اس کمپنی کا صدر دفتر تل ابیب، اسرائیل میں ہے، کیا اس پر کام کرنا جائز اور حلال ہوگا؟
فری لانسنگ انگریزی زبان کا لفظ ہے، جو دو کلموں Free Lancing سے مرکب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزادانہ طریقے سے روپے کمائے اور کسی ایک کمپنی کا ملازم نہ ہو، بلکہ مخصوص فری لانسنگ ویب سائٹس کے ذریعے مختلف کمپنیوں اداروں اور افراد کو اپنی خدمات اور سروس مہیا کرکے عوض میں کچھ اجرت حاصل کرے۔
فری لانسنگ کمپنی اپنی ویب سائٹ سے نفع اُٹھانے کیلئے اپنا رکن بناتی ہے اور اسے اپنی ویب سائٹ سے متعین مدت تک کیلئے خدمات فراہم کرتی ہے، جیسے اگر کسی کو کوئی ہنر آتا ہے، تو وہ ممبر بننے کے بعد ویب سائٹس میں موجود مختلف پروجیکٹس لے سکتا ہے اسی طرح اگر کسی کو کوئی کام کروانا ہے، تو اپنے کام کیلئے اس ویب سائٹس کے ذریعے فری لانسر (آزاد پیشہ ور) کو اُجرت پر لے سکتا ہے۔ (Freelancer Wikipedia)
فقہی تکییف کے لحاظ سے چونکہ مذکور صورت اجارہ کی ہے، اس لئے اس قسم کی کمپنی کی سروس سے نفع حاصل کرنے اور اس کا ممبر بننے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ معاملہ کرتے وقت کام کی اجرت، نوعیت اور مدت وغیرہ متعین کرلئے جائیں، البتہ فری لانسنگ ویب سائٹس پر پروجیکٹس (Projects) کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں، جن میں بعض پروجیکٹس (Projects)ایسے بھی ہوتے ہیں جو غیر شرعی ہوتے ہیں، جیسے موسیقی، اداکاری وغیرہ، لہٰذا ایسے (Projects)کے ذریعے پیسے کمانا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: وفی الأشباہ: استعان برجل فی السوق لیبیع متاعہ فطلب منہ اجرًا فالعبرۃ لعادتہم، وکذا لو ادخل رجلًا فی حانوتہ لیعمل لہ۔ الخ (ج۶، ص۴۲)
وفی الہندیۃ: ومنہا ان یکون المعقود علیہ وہو المنفعۃ معلوما علما یمنع المنازعۃ فان کان مجہولا جہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ یمنع صحۃ العقد والآفلا۔ الخ (ج۴، ص۴۱۱)۔
وفیہا ایضا: واما بیان انواعہا فنقول انہا نوعان نوع یرد علی منافع الاعیان کاستئجار الدور والاراضی والدواب والثیاب وما اشبہ ذلک ونوع یرد علی العمل کاستئجار المحترفین للاعمال کالقصارۃ والخیاطۃ والکتابۃ وما اشتبہ ذلک کذا فی المحیط واما حکمہا فوقوع الملک فی البدلین ساعۃ فساعۃ الا بشرط تعجیل الاجرۃ واما کیفیۃ انعقادھا فالاجارۃ عندنا تنعقد فیما بین المتعاقدین للحال وتنعقد ساعۃ فساعۃ فی حق الحکم وھو الملک علی حسب حدوث المنفعۃ کذا فی محیط السرخسی۔ الخ (ج۴، ص۴۱۱) واللہ اعلم بالصواب