انفارمیشن ٹیکنالوجی

فری لانسنگ (Free Lancing) کاروبارکا شرعی حکم

فتوی نمبر :
37820
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / ٹیکنالوجی / انفارمیشن ٹیکنالوجی

فری لانسنگ (Free Lancing) کاروبارکا شرعی حکم

Fiverr.com کے نام سے ایک کمپنی Freelancing کا کام دیتی ہے، جس پر انگریز اور عربی کام لیتے ہیں مگر اس کمپنی کا صدر دفتر تل ابیب، اسرائیل میں ہے، کیا اس پر کام کرنا جائز اور حلال ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فری لانسنگ انگریزی زبان کا لفظ ہے، جو دو کلموں Free Lancing سے مرکب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزادانہ طریقے سے روپے کمائے اور کسی ایک کمپنی کا ملازم نہ ہو، بلکہ مخصوص فری لانسنگ ویب سائٹس کے ذریعے مختلف کمپنیوں اداروں اور افراد کو اپنی خدمات اور سروس مہیا کرکے عوض میں کچھ اجرت حاصل کرے۔

فری لانسنگ کمپنی اپنی ویب سائٹ سے نفع اُٹھانے کیلئے اپنا رکن بناتی ہے اور اسے اپنی ویب سائٹ سے متعین مدت تک کیلئے خدمات فراہم کرتی ہے، جیسے اگر کسی کو کوئی ہنر آتا ہے، تو وہ ممبر بننے کے بعد ویب سائٹس میں موجود مختلف پروجیکٹس لے سکتا ہے اسی طرح اگر کسی کو کوئی کام کروانا ہے، تو اپنے کام کیلئے اس ویب سائٹس کے ذریعے فری لانسر (آزاد پیشہ ور) کو اُجرت پر لے سکتا ہے۔ (Freelancer Wikipedia)

فقہی تکییف کے لحاظ سے چونکہ مذکور صورت اجارہ کی ہے، اس لئے اس قسم کی کمپنی کی سروس سے نفع حاصل کرنے اور اس کا ممبر بننے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ معاملہ کرتے وقت کام کی اجرت، نوعیت اور مدت وغیرہ متعین کرلئے جائیں، البتہ فری لانسنگ ویب سائٹس پر پروجیکٹس (Projects) کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں، جن میں بعض پروجیکٹس (Projects)ایسے بھی ہوتے ہیں جو غیر شرعی ہوتے ہیں، جیسے موسیقی، اداکاری وغیرہ، لہٰذا ایسے (Projects)کے ذریعے پیسے کمانا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وفی الأشباہ: استعان برجل فی السوق لیبیع متاعہ فطلب منہ اجرًا فالعبرۃ لعادتہم، وکذا لو ادخل رجلًا فی حانوتہ لیعمل لہ۔ الخ (ج۶، ص۴۲)

وفی الہندیۃ: ومنہا ان یکون المعقود علیہ وہو المنفعۃ معلوما علما یمنع المنازعۃ فان کان مجہولا جہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ یمنع صحۃ العقد والآفلا۔ الخ (ج۴، ص۴۱۱)۔

وفیہا ایضا: واما بیان انواعہا فنقول انہا نوعان نوع یرد علی منافع الاعیان کاستئجار الدور والاراضی والدواب والثیاب وما اشبہ ذلک ونوع یرد علی العمل کاستئجار المحترفین للاعمال کالقصارۃ والخیاطۃ والکتابۃ وما اشتبہ ذلک کذا فی المحیط واما حکمہا فوقوع الملک فی البدلین ساعۃ فساعۃ الا بشرط تعجیل الاجرۃ واما کیفیۃ انعقادھا فالاجارۃ عندنا تنعقد فیما بین المتعاقدین للحال وتنعقد ساعۃ فساعۃ فی حق الحکم وھو الملک علی حسب حدوث المنفعۃ کذا فی محیط السرخسی۔ الخ (ج۴، ص۴۱۱) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمداکرام ہارون عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37820کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فری لانسنگ (Free Lancing) کاروبارکا شرعی حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 3
  • زونگ فرنچائز کی بزنس کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • گیم بنانا - ویڈیو گیمز بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • قوالی اور گانا گانے والوں کیلئے ویب سائٹ بنانا

    یونیکوڈ   اسکین   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • سافٹ ویئر انجینئر کی آئی ٹی ملازمت

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • چوری شدہ سافٹ وئیر استعمال کرنا - Pirated Softwares

    یونیکوڈ   اسکین   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • مختلف ویب سائٹ پر فری لانسنگ(Freelancing) کا کام کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • نیٹ کا غلط استعمال کرنے والے کو انٹرنیٹ کنکشن دینا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • دورِ حاضر میں ، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت کی بناء پر ، گھر میں ،ٹی وی رکھنا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • دینی مجالس کی ویڈیو بنانا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • گیسٹ بلاگنگ اور گیسٹ پوسٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • ایسا سافٹ ویئر بنانا جس کو جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہو

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 2
  • آنلائن پڑھانے کیلئے لڑکی کا نقاب کے ساتھ تصویر اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 1
  • اسلام 360 ایپ کے استعمال کا حکم

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • مالک کی اجازت کے بغیر سافٹ ویئر فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • بغیر اجازت سافٹ وئیر استعمال کرکے کفارہ دینا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
Related Topics متعلقه موضوعات