اگر پیسے صرف اتنے ہوں کہ قربانی اور عقیقہ میں سے صرف ایک کام کیا جا سکتا ہو تو کیا کرنا چاہئیے؟ کیونکہ میرا عقیقہ نہیں ہو اتھا اس لئے میں اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا چاہتا ہوں۔
ایامِ عید میں سائل کی ملکیت میں اگر ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر نقدی یا اتنی مالیت کا حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو تو اس صورت میں سائل پر عقیقہ کرنے کے بجائے قربانی کرنا واجب ہے، البتہ اگر سائل صاحبِ نصاب نہ ہو تو سائل عقیقہ اور قربانی میں سے جو کرنا چاہے ، کر سکتا ہے، لیکن ایامِ عید میں قربانی کرنا افضل ہے۔
و في سنن الترمذي: عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم، إنه ليأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها، وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض، فطيبوا بها نفسا» (4/ 83)۔۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم اھ (6/ 312)۔
و في الفتاوى الهندية: وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة (إلی قوله) والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره (5/ 292) -