میں جانتا ہوں کہ مرد کی مشت زنی اسلام میں جائز نہیں، لیکن کیا کسی عورت کیلئے اپنے شوہر کے مخصوص عضو کی مشت زنی کرتے ہوئے فارغ کروانا درست ہے ؟ اور یہ ان دونوں ( میاں، بیوی) میں سے کسی ایک کے کسی ایسے عذر کے سبب کرے کہ جس کی وجہ سے وہ جنسی فعل نہ کرسکتے ہوں، مثلاً یہ اس وقت کیا جائے جب کہ بیوی حاملہ ہو یا اس کے مخصوص ایام چل رہے ہوں، یا شوہر مشت زنی کا عادی ہو چکا ہو اپنے ہاتھ سے ، شادی سے پہلے یا بعد میں اور اسے چھوڑنا چاہتا ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آخرت میں اس کی سزا ملے گی۔
مرد کیلئے اپنے ہاتھ سے مشت زنی کرنا ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس عمل سے اجتناب لازم ہے، البتہ بیوی کے حاملہ ہونے یا حیض و نفاس کی حالت میں ہونے کی وجہ سے ہمبستری ممکن نہ ہو تو باَمرِمجبوری ایسی صورت میں بیوی کے ہاتھ سے فارغ ہونے کی گنجائش ہے۔
كما فی رد المحتار: تحت مطلب فی حكم إستمناء بالكف (الىٰ قوله) و يجوز أن يستمنى بید زوجته اھ (2/299)۔
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0