امام موصوف نے نماز میں پڑھا ’’تجری من تحتہا الأنہار‘‘ الأنہار خالدین فیہا ‘‘ کیا ایسا پڑھنا صحیح ہے یا نہیں اور ایسے میں نماز ہوگی یا نہیں ؟
مذکور طریقے کے مطابق قراءت کرنا اگرچہ وصل و وقف کے قواعد کی رو سے درست نہ ہو ، مگر اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ نماز صحیح ادا ہو چکی ہے۔
ففى حاشية ابن عابدين: (قوله أو بوقف وابتداء) قال في البزازية: الابتداء إن كان لا يغير المعنى تغييرا فاحشا لا يفسد، نحو الوقف على الشرط قبل الجزاء والابتداء بالجزاء، وكذا بين الصفة والموصوف؛ وإن غير المعنى نحو - {شهد الله أنه لا إله} [آل عمران: 18]- ثم ابتدأ - بإلا هو - لا يفسد عند عامة المشايخ لأن العوام لا يميزون؛ ولو وقف على - {وقالت اليهود} [التوبة: 30]- ثم ابتدأ بما بعده لا تفسد بالإجماع. اهـ. (1/ 632)
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0