میں حالتِ حیض میں بیوی سے بوس وکنار کرتا ہوں اور اپنے جسم کو اس سے ملاتا ہوں ، اس طرح مجھے انزال ہوجائے اور سکون ہوجائے ، بعض وقت پستان کے درمیان ہمبستری کرتا ہوں یا بیوی سے ہاتھ کے ذریعے پانی نکلوا لیتا ہوں ، نفاس اور حیض میں ایسا کرنا درست ہے؟ جبکہ فرج میں مباشرت نہیں کرتا اور ناف سے ران ستر نہیں کھولتا ، تین سے چار دنوں کے بعد گھر چکر لگتا ہے اور ایسے میں بیوی حیض سے ہو تو بہت مشکل ہوتی ہے۔
حالتِ حیض ونفاس میں ناف سے گھٹنوں تک کے علاوہ بیوی کے باقی جسم سے فائدہ اٹھانا جائز اور درست ہے اور اسی طرح اس دوران جب شہوت کا غلبہ ہو تو تسکینِ شہوت کے لئے بیوی سے مشت زنی کرانے کی بھی گنجائش ہے ۔
کما فی رد المحتار : تحت (قوله يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل (الیٰ قوله) و لأن غایة مسھا لذکرہ أنه استمتاع بکفھا و ھو جائز قطعاً (الیٰ قوله) و هو تحقيق وجيه ؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره اھ (1/292)۔
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0