محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
یہاں موریش کے اندر قربانی کے جانور کی قیمت ہر سال بڑھتی ہے، اور اس وجہ سے بہت سے لوگ اپنے ملک کے بجائے باہر ملک سستے داموں میں جانور خرید کر وہیں کاٹنے اور تقسیم کا بندوبست کرتے ہیں بطورِ ِصدقہ۔ ہمارے ادارے نے ایک درمیانہ راستہ اپنایا ہے، وہ یہ کہ جولوگ جانور خریدنا چاہتےہیں ،اور اپنے ہاں قربانی کرنا چاہتے ہیں ،لیکن اس کے لئے انہیں مشکلات درپیش ہیں، ایسوں سے پیسے وصول کرتے ہیں ،اور اس سے باہر ملک ,جمعیت علماءِ ہند کی طرف سے منظور شدہ کلی مذبح میں جانور کاٹتے ہیں، اور گوشت کا ایک حصہ وہیں کے غرباء ومساکین پر تقسیم کرتے ہیں، اور باقی اپنے ملک درآمد کر کے انہیں لوگوں کو پہنچا دیتے ہیں، جن سے پیسے وصول کیے تھے، اس طریقہ سے کم از کم ان لوگوں کو اپنے ہی ملک میں گوشت تقسیم کرنے اور اپنے جانورکے گوشت کھانے کا موقع ہاتھ آتا ہے ۔ براہِ کرم ہمارے اسی طریقہ کار کی شرعی حیثیت سے آگاہ کریں۔
اگر مؤکل (پیسے بھیجنے والا) اور وکیل (قربانی کرنے والا) کے مقام پر ایامِ اضحیہ پائے جاتے ہوں ،اور وکیل اپنے مؤکل کی طرف سے قربانی کر کے اس کے جانور کا گوشت کچھ غرباء میں تقسیم کر کے اور کچھ مؤکل کو بھیج دے تو ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، اور اس سے قربانی کی صحت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کمافي الفتاوى الهندية: وروي عنهما أيضا أن الرجل إذا كان في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم ليضحوا عنه فإنه يعتبر مكان التضحية فينبغي أن يضحوا عنه بعد فراغ الإمام من صلاته في المصر الذي يضحى عنه فيه وعن أبي الحسن أنه لا يجوز حتى يصلي في المصرين جميعا كذا في الظهيرية (5/ 296) -