السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اسلام آباد کا علاقہ ’’بارہ کہو‘‘ کے ایک مدرسہ میں پڑھاتا ہوں ، میرا سوال یہ ہے کہ میں ۱۵ دن سے کم دن اس مدرسہ میں رہنے کی نیت ہے ، وہ اس طرح کہ میں کسی جمعرات کو پنڈی اور کسی جمعرات کو اسلام آباد کے کسی علاقے میں جاکر رات گزارتا ہوں اور میری نیت بھی یہی ہے اور میں تقریباً دو سال تک اسی مدرسہ میں پڑھانے کا ارادہ رکھتا ہوں، کیا میں مسافر کہلاؤں گا ؟ اور میں کشمیر کا رہائشی ہوں ۔
سائل پڑھانے کی جگہ ’’بارہ کہو‘‘میں اگر ایک بار بھی پندرہ دن یا اس سے زائد ایام کی نیت کر کے نہ ٹھہرا ہو ، تو اس صورت میں جب تک اس طرح رہے گا وہ جائے ملازمت بارہ کہو میں مسافر ہی رہے گا، اس کو اپنی انفرادی نماز میں قصر کرنا لازم ہوگا ، البتہ مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی صورت میں پوری نماز پڑھے گا اور اگر پندرہ دن یا اس سے زائد مدت کے لۓ وہ اپنے رہائشی سامان کے ساتھ وہاں ٹھہرا ہو تو ’’ بارہ کہو‘‘ اس کے لۓ وطنِ اقامت بن چکا ہے ، لہٰذا سائل اپنی ملازمت کی جگہ ’’بارہ کہو‘‘ میں جب تک ملازمت کرتا رہےگا اور وہاں اس کی رہائش اور ضروری ساز و سامان رہے گا ، اس وقت تک وہ نماز پوری پڑھے گا ، البتہ سفر کے دوران شہر سے باہر وہ قصر نماز پڑھے گا۔
كما في الفتاوى الهندية : و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر ، كذا في الهداية. اھ (1/ 139)۔
و فى البحر الرائق : و قيل تبقى وطنا له ؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل و الدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل و إن أقام بموضع آخر اهـ. (2/ 147)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4