علماءِ کرام کی خدمت میں گذارش ہے کہ میرا ایک دوست جو حنفی ہے ، نماز میں امام کے ساتھ سورتِ فاتحہ اور قرأت بھی کرتا تھا، جب اسے پتہ چلا تو اس نے سورتِ فاتحہ اور قرأت چھوڑ دی، اب یہ معلوم کرنا ہے کہ اس نے جو نمازیں پہلے پڑھی ہیں ان کا قضاء واجب ہے یا نہیں؟
سائل کے دوست نے جن نمازوں میں" قرأت خلف الامام" کی ہے چونکہ یہ غلط فہمی اور مسئلۂ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر ہوا ہے، اس لۓ اس کی وہ نمازیں فاسد نہیں ہوئیں، لہٰذا ان کی قضاء اوراعادہ کی ضرورت نہیں۔
فی الهدایة : فإن سها المؤتم لم یلزم الامام و المؤتم السجود لأنه لو سجد وحده کان مخالفا لامامه و لو تابعه الامام ینقلب الاصل تبعاً اھ (۱/ ۲۴۷)۔
و فی الفتاوى الهندية : سهو المؤتم لا يوجب السجدة و لو ترك الإمام سجود السهو فلا سهو على المأموم ، كذا في المحيط اھ (1/ 128)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0