محترم جناب مفتی صاحب! بینک میں ملازمت اختیار کرنا اور بینک منیجر کی تنخواہ کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ سود میں شامل ہے کہ نہیں؟ اگر سود میں شامل ہو تو مسلمان ملازمین تو نہیں رہیں گے تو اس کا کیا حل ہے؟
موجودہ زمانہ میں غیر بنکوں کا نظام واضح طور پر سودی اور ناجائز معاملات پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے بینک کی ایسی ملازمت جس میں سودی معاملات کا لکھنا پڑھنا پڑتا ہو جیسا کہ کیشئیر، منیجر اور کلرک وغیرہ کی ملازمت ہوتی ہے ایسی ملازمت اختیار کرنا اور اس پر تنخواہ لینا بلا شبہ ناجائز اور اس کے اختیار کرنے یا برقرار رکھنے سے احتراز لازم ہے ۔
البتہ بینک کی وہ ملازمت جس کا سودی معاملامات سے کوئی واسطہ نہ ہو، جیسا کر خاکروب ، چوکیدار اور باورچی وغیرہ کی ملازمت اس کے مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے اسے اختیار کرنے کی گنجائش اور اس سے احتراز بہتر ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کا یہ کہنا کہ اس طرح پھر مسلمان ملازمین نہیں رہیں گے، سودی نظام کو ختم کرنے یا کم از کم اس کے خاتمے کا سوچنے کے بجائے اُسے مزید تقویت پہنچانے کے مترادف ہے ، اور یہ سخت گناہ کی بات ہے، لہذا سائل کو اس قسم کے کلمات بولنے اور اس طرح کا نظریہ رکھنے سے احتراز لازم ہے ۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
اگر بینک منیجر کی تنخواہ حرام ہو تو بینک میں منیجر کی ذمہ داری کون پوری کرے؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0