میں اسلام آباد میں ملازمت کرتا ہوں، جہاں میرا اپنا مکان ہے اور میری بیوی بچے میرے ساتھ رہتے ہیں، میرا آبائی گھر گجرانوالہ میں ہے (۲۲۵ کلومیٹر کے فاصلے سے) جہاں میرے والدین اور باقی بھائی رہتے ہیں، آبائی گاؤں میں میرا اپنا مکان بھی ہے، میں مہینہ دو مہینہ بعد اپنے آبائی گاؤں جاتا ہوں، آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میں اپنے آبائی گاؤں میں قصر نماز پڑھوں گا یا پوری نماز ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب تک آبائی وطن کو کلی طور پر ترک کرنے کا عزم نہ کیا ہو تو وہ اپنے آبائی گاؤں گوجرانوالہ میں پوری نماز پڑھے گا ، اگرچہ تھوڑی دیر کے لۓ ہی کیوں نہ آئے ۔
كما في حاشية ابن عابدين : و لو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما ، فإن ماتت زوجته في إحداهما و بقي له فيها دور و عقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة و استقرت سكنی له و ليس له فيها دار و قيل تبقى. اهـ (2/ 131)۔
و كما فى البحر الرائق : ثم قال و هذا جواب واقعة ابتلينا بها و كثير من المسلمين المتوطنين في البلاد و لهم دور و عقار في القرى البعيدة منها ، يصیفون بها بأهلهم و متاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر اھ (2 136)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4