میں حفظ اور ناظرہ کے بچوں کو پڑھاتی ہوں، دورانِ تدریس آیتِ سجدہ تلاوت بھی کرتی ہوں ، سنتی بھی ہوں، اکثر اوقات سجدہ فوراً نہیں کر سکتی، پھر بعد میں سجدوں کی تعداد بھول جاتی ہوں، اس صورت میں کیا میں اپنے اندازے سے سجدۂ تلاوت کر سکتی ہوں؟
سجدۂ تلاوت تاخیر سے ادا کرنے کا کوئی گناہ نہیں، تاہم اگر بھول جانے کا اندیشہ ہو تو جلد سے جلد اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، جبکہ سوال میں مذکور صورت حال میں غالب گمان کے مطابق جتنے سجدے ذمہ میں واجب الاداء ہوں ان کا انتظام لازم ہے۔
في حاشية الطحطاوي : من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء اھ (ص : 447)-
وفيها أیضاً : لكن "كره تأخيره" السجود عن وقت التلاوة في الأصح إذا لم يكن الوقت مكروها لأنه بطول الزمان قد ينساها فيكره تأخيرها "تنزيها اھ (ص: 480)
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0