السلام علیکم!
میں بیوہ ہوگئی ہوں، پر میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتی، وجہ یہ ہے کہ ہماری شادی کو دس سال ہو گئے ہیں اور اولاد بھی نہیں۔ میں موٹی بھی بہت ہوں میرے شوہر کا مدرسہ ہے، میں اسے چلانا چاہتی ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ جنسی طلب کے لیے کیا میں مصنوعی پلاسٹک سے بنا ہوا عضو تناسل استعمال کر سکتی ہوں؟ کیا یہ جائز ہے ؟ یا یہ بھی زنا کی طرح حرام ہے؟ مہربانی کر کے یہ بتائیں کہ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟
اگرچہ یہ عمل زنا کے زمرے میں نہیں آتا، مگر یہ بھی گناہ پر مبنی اور نا جائز عمل ہے، اس لیے سائلہ پر لازم ہے کہ اس برے فعل سے بھی اجتناب کرے اور کسی مرد صالح سے شادی کا انتظام کرے تو مدرسہ چلانے میں بھی سہولت ہوگی اور گناہ سے بھی بچنا ممکن ہوگا ۔
ففي أحكام القرآن للجصاص: تحت قوله تعالى " وقل للمؤمنت يغضضن من أبصارهن" (إلی قوله) روي عن أبي العالية أنه قال كل آية في القرآن يحفظوا فروجهم ويحفظن فروجهن من الزنا إلا التي في النور يحفظوا فروجهم ويحفظن فروجهن أن لا ينظر إليها أحد قال أبو بكر هذا تخصيص بلا دلالة والذي يقتضيه الظاهر أن يكون المعنى حفظها عن سائر ما حرم عليه من الزنا واللمس والنظر وكذلك سائر الآي المذكورة في هذا الموضع في حفظ الفروج هي على جميع ذلك ما لم تقم الدلالة على أن المراد بعض ذلك دون بعض اھ (۵/ ۱۷۲)
ففي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وهل يحل الاستمناء بالكف خارج رمضان إن أراد الشهوة لا يحل لقوله - عليه السلام - «ناكح اليد ملعون» ، وإن أراد تسكين الشهوة يرجى أن لا يكون عليه وبال كذا في الولوالجية اھ (2/ 293)
و في فتاوى تاتارخانية : وإذا أدخلت المرأة القطنة في قبلها إذا انتهت الی الفرج الداخل وهو رحمها انتقض صومها اھ (۲/ ۳۷۰)
وفیه أیضا: إذا عالج ذکره بیده حتی امنی (إلی قوله) ولا یح هذ الفعل خارج رمضان أیضا إن قصد قضاء الشهوة وإن قصد تسکین شهوته أرجو أن لا یکون علیه وبال اھ (۲/ ۳۷۰) واللہ اعلم بالصواب