محترم مفتی صاحب! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ میں ٹیلی کام فیلڈ (ذرائع ابلاغ) میں کام کرتا ہوں، اور سعودیہ عرب کے شہر طائف میں رہتا ہوں، اور مجھے روزانہ یا کم ازکم ہفتہ میں تین یا چار بار طائف شہر سے باہر تین سے پانچ سو کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے اور پھر رات کو واپس اپنے گھر طائف آتا ہوں، کیا میں دورانِ سفر قصر نماز ہی پڑھوں گا یا پوری نماز؟ کیونکہ میرا تو روزانہ کا کام بنا ہے۔
سائل طائف شہر اور اس کے حدود سے اگر ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ کے ارادہ سے باہر نکلے تو وہ شرعاً مسافر کہلائےگا اور اپنی نماز میں قصر کرےگا، اگرچہ اس کا یہ معمول روزانہ ہی کیوں نہ ہو۔
فی تنویر الابصار : من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام و لياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا اھ (2/ 123)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4