میں نے MBA کیا ہے ،جیسا کہ ہمارے ملک کی موجودہ صورتِ حال، تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے حوالے سے انتہائی مایوس کن ہے،میں اپنی فیملی کی مالی صورت بہتر کرنے کے لئے کام کی تلاش میں ہوں ، مجھے بینک کی جاب سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، مگر میں اس کے بارے میں مذبذب ہوں،میں نے بعض مذہبی علماء سے سنا ہے کہ بیروزگاری کی صورت میں میں کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور بعض علماء بینک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ یہ سود میں مدد کرنا ہے اور اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ کیا اس صورتحال میں، میں اپلائی کروں، اور کیا بینک کی نوکری حلال ہے ؟
غیر سودی بینکوں کی ملازمت اور سودی بینکوں کی ایسی ملازمت جس کا براہِ راست سودی لین دین یا اس پر گواہ بننے یا اس کے لکھنے سے تعلق نہ ہو، اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ جبکہ سودی بینکوں کی ایسی ملازمت جس کا براہِ راست سودی لین دین و غیره سے تعلق ہو جیسے بینک مینجر اور کیشیئر وغیرہ کی ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
وفي تكملة الفتح الملھم: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" قال العلامة العثمانى تحت (قوله وكاتبه: لأن كتابة الربا اعانة عليه، ومن هنا ظهر أن التوظف في البنوك الربوية لا يجوز اھ (۱/ ۶۱)۔