مفتی صاحب! کیا ’’جھینگا ‘‘ حلال ہے یا حرام ؟
فقہاء احناف کے نزدیک سمندری جانوروں میں سے جو مچھلی (سمک) کی تعریف میں داخل ہے، وہ حلال ہے ائمہ ثلاثہ کچھ استثنائی جانوروں کے علاوہ تمام سمندری جانوروں کے حلت کے قائل ہیں تاہم جھینگے کے حلت کے بارے میں اختلاف ہے، جن حضرات نے ماہرین لغت کی تحقیق کے مطابق اسے مچھلی میں شمار کیا۔ ان کے نزدیک حلال ہے اور جن حضرات نے ماہرین حیوانات کی رائے کے موافق اسے مچھلی کی تعریف سے خارج قرار دیا ہے ان کے ہاں مکروہ تحریمی ہے، اس اختلاف رائے کی بناء پر جھینگا حرام تو نہیں کہلائے گا ،البتہ اس کے کھانے سے احتراز اولی اور احوط ہے۔
ففي تكملة فتح الملهم : وأما الروبيان أو الأربيان الذي يسمى في اللغة المصرية "جمبرى"، و في اللغة الأردية جهينكا " فلاشك في حلته عند الائمة الثلاثة ( الى قوله) وأما الحنفية فيتوقف جوازه على أنه سمك أو لا ، فذكر غير واحد من اهل اللغة أنه نوع من السمك (إلى قوله) وأفتى غير واحد من الحنفية بجوازه بناء على ذلك اھ (۳/ ۲۱۴)
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0