۱۔ کیا کسی امام کے نزدیک عید الاضحیٰ کے چوتھے دن قربانی جائز ہے؟ یا حدیث سے ثابت ہے؟ اگر کوئی چوتھے دن جانور ذبح کرتا ہے تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے ؟ تفصیل سے جواب دیں۔
۲۔ اہل حدیث اور بریلویوں کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر جماعت چوٹ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا ان کے پیچھے نماز ادا کر سکتے ہیں۔
۱۔ عند الاحناف احادیث صحیحہ صریحہ کی روشنی میں قربانی کے ایام صرف تین دن (دس، گیارہ، بارہ) ذی الحجہ ہیں اور کوئی چوتھے دن قربانی کی نیت سے جانور ذبح کرے تو وہ قربانی کی بجائے عام صدقہ کہلائےگا اور اس کا کھانا جائز ہے، جبکہ خاص امام کے نزدیک چوتھے دن قربانی کے جواب سے متعلق سوال کی تحریر کر دی جائے تو اس کے حکم شرعی سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
۲۔ غیر مقلد اگر غالی اور سلف الصالحین کو گالیاں دینے والا اور مقلدین کو مشرک قرار دینے والا نہ ہو، اور بریلوی اگر مشرکانہ عقائد کا حامل نہ ہو تو بوقت مجبوری ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
ففي الدر المختار: (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) (إلی قوله) (ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) اھ (1/ 559)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع اھ(1/ 562)
وفی البدائع: وذکر فی المنقی روایة عن أبی حنیفة رحمه اللہ أنه کان لا یری الصلاة خلف المبتدع، والصحیح أنه إن کان هوی یکفره لا تجوز وإن کان لا یکفره تجوز مع الکراهة اھ (۱/ ۱۵۷)
وفی البحر الرائق: وفی الفتاوی لو صلی خلف فاسق، أو مبتدع ینال فضل الجماعة لکن لا ینال خلف تقی ورع (إلی قوله) وکره امامة العبد الأعرابی والفاسق والمبتدع والأعمی وولد الزنا اھ (۱/ ۳۴۸)
وفی الفتاوى الهندية: ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي. كذا في الخلاصة. (1/ 84)