محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
میرے ماموں چچا نے ایک زمین خرید کر میرے نام کر دی ہے، لیکن وہ میری ملکیت میں نہیں صرف کاغذات میرے نام ہیں ،اور میرے پاس امانت ہے، تو عید الاضحیٰ کی قربانی پر نصاب کا حساب لگاتے وقت اس زمین کو بھی شامل کرنا ہے کہ نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور زمین کی بناء پر سائل کے نصاب میں کچھ فرق نہیں پڑے گا، لہذا اگر وہ پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو تو اس زمین کا مالک و قابض بننے سے بھی اس پر قربانی لازم نہیں ہوگی۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولو له عقار يستغلها قال الزعفراني ان بلغت قيمتها نصابا تلزم اھ (۶/ ۲۸۶)۔
و في حاشية ابن عابدين: ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا اھ (6/ 312) ۔