فاریکس ایکسچینج میں کرنسی کا کاروبار کرنا اور اس پر منافع کمانا شرعاً درست ہے یا نہیں ہے؟
مذکور کا روبار میں عام طور پر خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتا ، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کاروبار میں قبضہ کے بغیر بھی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے ،اور قبضہ کے بغیر چیز آگے بیچنا جائز نہیں، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروبار درست نہیں،لہذا عمومی طور پر ایسے کاروبار سے احتراز لازم ہے ۔
تاہم اگر کوئی شخص خود یا اس کا وکیل اس طرح کے سامان پر قبضہ کرنے کے بعد اُسے آگے بیچے تو بلاشبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا۔
کمافي الدر المختار: (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه اھ (5/ 147)۔
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: أن الدراهم والدنانير وإن كانت لا تتعين بالعقد ولكنها تتعين بالقبض وقبضها واجب اھ (5/ 218)-