کیا قربانی ایک سال کے بدلے دوسرے سال کی جاسکتی ہے؟ اس نیت کے ساتھ کہ گزشتہ سال نہ کرسکا، یا فطر صدقہ یا بدل کی نیت سے سال کی کسی حصے میں کہ جب پیسہ ہو؟
پچھلے سال کی قربانی اس سال ادا کرنے سے تو ادا نہیں ہوگی اور نہ ہی سال بھر تاخیر کرنا درست ہے،البتہ ایسی صورت میں جب ایامِ اضحیہ میں قربانی نہ ہوسکے گی تو اس کے بعد اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کے ساتھ قربانی کے حساب کے جانور کی قیمت صدقہ کردینے سے اس کی قضاء ہوجاتی ہے اور اسی کا اہتمام چاہیے
جبکہ گزشتہ سال کا صدقہ فطر جب چاہیں کسی مستحق کو دے سکتے ہیں۔
وفی الھندیة: ومنھا انھا تقضی اذا فاتت عن وقتھا ثم قضائھا قدیکون بالتصدق بعین الشاة حیة وقدیکون بالتصدق بقیمة الشاة اھ(5/294)۔