میں نیشنل بینک آف پاکستان میں کام کرتا ہوں ، آؤٹ سورس ملازم ہوں، مجھے معلوم ہے کہ میں سودی بینک میں کام کر رہا ہوں، لیکن چھ (6) سال تک مجھے کوئی ملازمت نہیں ملی ، اس لئے میں ملازمت نہیں چھوڑ سکتا کہ میرے گھر والوں کا کیا ہوگا ؟
اب آپ مجھے بتائیں کہ میں سود کی ملازمت چھوڑ کر گھر بیٹھ جاؤں یا کرتا رہوں، اور یہ بھی بتائیں کہ اسلامی بنک میں ملازمت جائز ہے یا نہیں ؟
سائل کی ملازمت اگر ایسی ہو کہ براہ راست سودی معاملات کے لکھنے پڑھنے سے اس کوئی تعلق نہ ہو تو ایسی ملازمت اختیار کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ،مگر اس سے بھی بچنا بہتر ہے اور اگر سودی معاملات سے متعلق ملازمت ہو تو یہ جائز نہیں ،تاہم جب تک دوسری کوئی مناسب ملازمت نہ ملے اس وقت تک اس کو اختیار کرنے کی گنجائش ہے
جبکہ میزان یا بینک اسلامی میں ملازمت کرنے کی اجازت ہے، سائل کو چاہیے کہ اگر اسے بینک کی ملازمت ہی کرنی ہے تو کسی اسلامی بینک کی ملازمت اختیار کرے۔
ففي تكملة فتح الملهم: عن جابر قال لعن رسول الله صلى عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهده وقال من سواء ؛ قال الشيخ وقوله صلى الله عليه وسلم وكاتبه لان كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام (إلی قوله) واما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا، فانه حرام للوجه الثاني فحسب فاذا وجد بنك معظم دخله حلال جاز فيه التؤظف للنوع الثاني من الاعمال اھ (۱/619)