مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا ایک مسجد میں ایک وقت میں تراویح کی دو یا دو سے زیادہ جماعتیں ہو سکتی ہیں؟ ہماری طرف کی مسجد میں چار جماعتیں ہوتی ہیں، دو دس روزہ ، ایک ۱۵ روزہ اور ایک ۲۷ روزہ کیا یہ جائز ہے؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ حنفی مسلک کے مطابق ایک وقت کی ایک ہی جماعت ہوسکتی ہے، کیا تراویح کے لئے بھی یہی حکم ہے؟
اگرچہ بہتر تو یہی ہے کہ ایک مسجد میں تراویح کی جماعت بھی ایک ہی ہو , تاہم اگر مختلف حفاظِ کرام اپنی اپنی منزل سنانا چاہتے ہوں اور سننے والے بھی شوق رکھتے ہوں اور وہ مسجد کے اوپر نیچے کے ایسے مقامات میں تراویح کا اہتمام کریں جہاں دوسری جماعت میں ساتھ خلل واقع نہ ہو اور نہ ہی ان پڑھنے والوں کی آوازیں باہم ٹکراتی ہوں تو اس صورت میں متعدد جماعتیں ہونے میں شرعاً بھی کوئی قباحت نہیں۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و الجماعة فيها سنة على الكفاية إلخ) أفاد أن أصل التراويح سنة عين ، فلو تركها واحد كره ، بخلاف صلاتها بالجماعة فإنها سنة كفاية ، فلو تركها الكل أساءوا ؛ أما لو تخلف عنها رجل من أفراد الناس و صلى في بيته فقد ترك الفضيلة اھ (2/ 45)-
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0