۱۔ تراویح کی نماز میں امام صاحب کا ایک لفظ غیر عالم اور غیر حافظ مقتدی جو عربی نہ جانتا ہو کو صحیح طور پر سمجھ میں آنا اور ایک ایک لفظ سنائی دینا لازم ہے اور کیا یہ فرض کا درجہ رکھتا ہے یا قرأت کی تیزی میں کچھ سمجھ میں آئے اور کچھ نہ آئے کام چل سکتا ہے؟
۲۔ جماعت اسلامی یعنی مودودی عقائد رکھنے والے امام جو عالم اور حافظ ہو کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے، کوئی دیوبندی عقائد رکھنے والا امام قریب نہ ہو تو نمازِ تراویح انفرادی پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
۱۔ اگرچہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ قاری ٹھہر ٹھہر کر اور سکون سے پڑھے، تاہم اگر وہ قدرِ تیز اور جلدی پڑھے تاکہ نمازیوں کے لیے بوجھ نہ ہو اور اس تیزی میں بھی تمام کلمات اور تلفظ اور حرکات بخوبی ادا ہو جاتی ہوں تو یہ بھی جائز ہے خواہ غیر حافظ کو سمجھ آئے یا نہ، ورنہ احتیاط کرے اور صحیح پڑھنے کی کوشش کرے۔
۲۔ اگر اس امام کے عقائد ونظریات مودودی صاحب والے ہی ہوں تب تو اپنے اختیار سے اُسے امام منتخب کرنا درست نہیں، تاہم اگر کوئی دوسرا صحیح العقیدہ امام میسر نہ ہو تو تنہاء پڑھنے کی بجائے اسی کی اقتداء میں نماز پڑھ لی جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔
ففی الدر المختار: وفي الحجة: يقرأ في الفرض بالترسل حرفا حرفا، وفي التراويح بين بين، وفي النفل ليلا له أن يسرع بعد أن يقرأ كما يفهم اھ (1/ 541)
وفی الدر المختار: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ (1/ 562)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع اھ (1/ 562)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0