کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صلوٰۃ التراویح میں ہر چار رکعت بعد جو مروّجہ دعا ’’سبحان ذی الملک والملکوت الخ‘‘ پڑھی جاتی ہے، اس کا ثبوت کس طرح ہے، یعنی کس کتاب میں ہے مع حوالہ جواب مرحمت فرمائیں، اگر یہ دعا موجود نہیں ہے تو پھر اس وقفہ میں کیا کرنا چاہیۓ؟
ہر ترویحہ اور اسی طرح وترسے قبل آخری ترویحہ کے بعد مطلق انتظار کرنا مستحب ہے، جس میں امام اور مقتدیوں کو اختیارہے، خواہ وہ خاموش بیٹھیں یا نماز اور ذکر وغیرہ میں مشغول رہیں اور بالکل خاموش رہنا بھی جائز ہے، جبکہ فقہاءِ کرام نے مذکور دعا وتسبیح کے پڑھنے کو مستحب لکھا ہے۔
(يجلس) ندبا (بين كل أربعة بقدرها و كذا بين الخامسة و الوتر) و يخيرون بين تسبيح و قراءة و سكوت و صلاة فرادى اھ(2/ 46)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله يجلس) ليس المراد حقيقة الجلوس ، بل المراد الانتظار لأنه يخير بين الجلوس ذاكرا أو ساكتا و بين صلاته نافلة منفردا (إلی قوله) (قوله بين تسبيح) قال القهستاني : فيقال ثلاث مرات «سبحان ذي الملك و الملكوت، سبحان ذي العزة و العظمة و القدرة و الكبرياء و الجبروت ، سبحان الملك الحي الذي لا يموت ، سبوح قدوس رب الملائكة و الروح، لا إله إلا الله نستغفر الله ، نسألك الجنة و نعوذ بك من النار» كما في منهج العباد. اهـ. (2/ 46)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0