السلام علیکم! قربانی کے کتنے ایّام ہوتے ہیں، میں تو پہلے دن قربانی کرتا ہوں، اگر میں چوتھے دن بھی قربانی کروں تو کیا میری قربانی ہو جائےگی؟ اور کیا چوتھے دن بھی قربانی جائز ہے؟ میرے سسرال والے اہلِ حدیث ہیں ۔ برائے مہربانی جلدی جواب دیں۔ اگر ہو گی تو میں ایک قربانی پہلے دن اور دوسری چوتھے دن کروں گا ۔
ذی الحجہ کی دس، گیارہ، بارہ تاریخ قربانی کے ایّام ہیں اس سے پہلے یا بعد کےایام میں قربانی درست نہیں اور احادیث مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے۔
کما فی البدائع : وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحى - وهو اليوم العاشر من ذي الحجة - والحادي عشر، والثاني عشر وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلى غروب الشمس من الثاني عشر اھ (5/65)۔
و فی اعلاء السنن : عن نافع ان عبداللہ بن عمر قال الاضحی یومان بعد یوم الاضحی و قال مالک انہ بلغہ عن علی بن ابی طالب مثل ذالک اھ (1/33)۔