میرا سوال یہ ہے کہ مجھےعجیب عجیب خیالات آتے ہیں جیسا کہ اللہ کی ذات اور صفات ہیں تو اس سے آگے کیا ہے وغیرہ ، جس کی وجہ سے میرا عقیدہ کمزور ہورہا ہے،پوچھنا یہ ہے کہ اتنا عقیدہ رکھنا کافی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے اور موجود ہے،اور یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سےحضورﷺ پر نازل ہوا میں ان سب پر ایمان لایا،یعنی جو کچھ مجھے معلوم ہے اور جو کچھ معلوم نہیں لیکن برحق ہے سب پر ایمان لایا۔اگر بندہ زیادہ تفصیل میں نہ جائےلیکن سب پر ایمان رکھے تو کافرتو نہیں ہوگا؟نیز یہ کہ اگر آپ کو بیان کردہ عقیدہ میں کچھ کمی بیشی معلوم ہوتو میری اصلاح فرمائیں۔
مسئولہ صورت میں سائل کےلیے اتنا اجمالی عقیدہ بھی صحتِ ایمان کےلیے کافی ہے،کہ میں ایمان لایا اللہ پر،اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخرت پر، اچھی بُری تقدیر پر، کہ یہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے،اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ،جسے عام طور پر ایمانِ مجمل کےنام سے تعبیر کیاجاتا ہے،اور اتنا عقیدہ رکھنے سے سائل کافر بھی شمار نہ ہوگا، تاہم اسی پر اکتفاء کرنےکے بجائے سائل اگر احکامِ شرعیہ بھی سیکھنے کا اہتمام کرے اور اسے ایمان کی تفصیل بھی مکمل طور پر معلوم ہو تو یہ بہرحال اس کے لیےمستحسن عمل ہے،جبکہ اس کے علاوہ سائل کو خود سے اللہ تعالیٰ کی ذات میں بلاوجہ غوروفکر نہیں کرنا چاہیے ، تاکہ کم علمی کی وجہ سے وہ طرح طرح کے وساوس وخیالات کا شکار نہ ہو،البتہ بغیر غوروفکر کیے غیر اختیاری طور پر اگر خود سے اسےایسا کوئی خیال آجائے جوکہ نامناسب ہوتواس پر عنداللہ مؤاخذہ نہ ہوگا ،نیز ایسےغلط خیالات آنے کی صورت میں سائل اگران کو ناپسندیدہ بھی سمجھے تو یہ بلاشبہ ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے، لہذا سائل کوان خیالات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
لما فی التنزیل العزیز [الأنعام: 103]
{لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} .
وفی صحيح مسلم (1/ 119)
212 - (134) حدثنا هارون بن معروف، ومحمد بن عباد، واللفظ لهارون، قالا: حدثنا سفيان، عن هشام، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يزال الناس يتساءلون حتى يقال: هذا خلق الله الخلق، فمن خلق الله؟ فمن وجد من ذلك شيئا، فليقل: آمنت بالله " .
وفیہ أیضاً (1/ 119)
209 - (132) حدثني زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: «وقد وجدتموه؟» قالوا: نعم، قال: «ذاك صريح الإيمان».
وفی متن الطحاوية بتعليق الألباني (ص: 62)
62 - والإيمان هو الإقرار باللسان والتصديق بالجنان .
63 - وجميع ما صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من الشرع والبيان كله حق .
64 - والإيمان واحد وأهله في أصله سواء والتفاضل بينهم بالخشية والتقى ومخالفة الهوى وملازمة الأولى .
65 - والمؤمنون كلهم أولياء الرحمن وأكرمهم عند الله أطوعهم وأتبعهم للقرآن .
66 - والإيمان هو الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره وحلوه ومره من الله تعالى .
67- ونحن مؤمنون بذلك كله لا نفرق بين أحد من رسله ونصدقهم كلهم على ما جاؤوا به .
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1