میرا سوال قربانی سے متعلق ہےجو کہ ہم بقرہ عید میں کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ سنتِ ابراہیمی ہے، اور تمام بڑے جو اس کا تحمل رکھتے ہیں، ان کو یہ قربانی کرنی چاہئیے ، اور یاد رکھنا چاہئیے کہ کیوں ابراہیم نے یہ قربانی دی۔اس وقت چند ایک باتیں ہیں کہ جو لوگ قربانی کرتے ہیں، ان کو اپنے بال، ناخن نہیں کاٹنے چاہئیے یا شیو نہیں کرنا چاہئیے ، یہ بات میرے لئے حیران کن واقع ہوئی ،جیسا کہ میں ہمیشہ سے یہ جانتی تھی کہ یہ حج کرنے والوں کے ساتھ مخصوص ہے، میں اس بارے میں آپ کی تجویز حاصل کرنا چاہوں گی اور اگر ایسا ہے تو کیا تمام فقہ اس پر متفق ہیں یا کسی ایک فرقہ یا فقہ تک محدود ہے ،اور اس عقیدے کی اصل کیا ہے ؟
یہ ایک مستحب امر ہے ، اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ،اور اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے ،سائلہ کو کسی بات کا علم نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ فی نفسہ بھی وہ حکم ثابت اور موجود نہ ہو ۔
کما فی سنن الترمذي: عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى هلال ذي الحجة، وأراد أن يضحي،فلا يأخذن من شعره، ولا من أظفاره» (4/ 102)۔
و في العرف الشذي شرح سنن الترمذي: عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى هلال ذي الحجة، وأراد أن يضحي، فلا يأخذن من شعره، ولا من أظفاره»: وهو قول بعض أهل العلم وبه كان يقول سعيد بن المسيب، وإلى هذا الحديث ذهب أحمد، وإسحاق ورخص بعض أهل العلم في ذلك، فقالوا: لا بأس أن يأخذ من شعره وأظفاره، (إلی قوله) ومسألة حديث الباب مستحبة والغرض التشاكل بالحجاج اھ (3/ 173) -