میرا سوال سلام سے متعلق ہے جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں ذکری فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کام کرتے ہیں، ان کو سلام کرنا یا ان کے سلام کا جواب دینا چاہیے یا نہیں؟
ایسے لوگوں کو ابتداءً خود سے سلام کرنا درست نہیں، البتہ اگر ان میں سے کوئی سلام دینے میں پہل کر دے تو جواب میں صرف وعلیکم کہنا چاہیے اس سے زیادہ نہیں۔
وفی الخانیة علی هامش الهندیة: وإنما یکرہ ان یبتدئهم بالسلام أما إذا إبتدأ لاکافر فلابأس بأن یرد علیه ولکن لا یزید علی قوله وعلیك الخ (۲/۴۲۳)
ففی الدر المختار: فلا يسلم ابتداء على كافر لحديث «لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام (إلی قوله) ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي على مسلم فلا بأس بالرد (و) لكن (لا يزيد على قوله وعليك)اھ(6/ 412) واللہ أعلم!
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0