کیا فرماتے ہیں علماءِ دین کہ اگر زید اپنے گھر میں قربانی کرتا ہے، قربانی کے اس جانور میں اس کے گھر والے ہی شریک ہیں، (کوئی باہر کا فرد شریک نہیں) اب ایسی صورت میں زید سب گھر والوں کی رضامندی سے صرف دس فیصد گوشت رکھتا ہے ،اور باقی نوے (۹۰) فیصد یہ غریب اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دیتا ہے، کیا اُس کا یہ عمل صحیح ہے؟ واضح رہے کہ وہ دس فیصد جو اُس نے رکھا ہے ،وہ سب کے مشورے سے پسندیدہ رکھا ہے ،یعنی کلیجی ران کا گوشت اور کچھ ان کا صاف کیا ہوا گوشت۔ ایسی صورت میں کیا اُس کی قربانی صحیح ہو گئی ؟
اگر گھر والے مشترکہ ہی استعمال کرتے ہوں، تو مذکور مقدار میں گوشت رکھ کر باقی غرباء و مساکین میں تقسیم کرنا بھی جائز ہے اور قربانی بھی درست ہو گئی ہے۔
کما فی الدر المختار: وندب تركه لذي عيال توسعة عليهم اھ (6/ 328)۔
وتحته في حاشية ابن عابدين: (قوله وندب إلخ) قال في البدائع: والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقربائه وأصدقائه ويدخر الثلث؛ ويستحب أن يأكل منها، ولو حبس الكل لنفسه جاز لأن القربة في الإراقة والتصدق باللحم تطوع اھ (6/ 328) -