میں عقیقہ کے متعلق سوال کرنا چاہتی ہوں، میرا شوہر پہلی مرتبہ اس سال قربانی کرنا چاہتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اب تک اس کا عقیقہ نہیں ہوا ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ بغیر عقیقہ کے اس سال قربانی کر سکتا ہے ؟ یا پہلے اس کو اپنا عقیقہ کرنا چاہیے پھر وہ اپنی قربانی کر ے ؟
قربانی کی صحت کے لئے عقیقہ کا پہلے ہونا لازم نہیں، اور نہ ہی اپنا عقیقہ خود کرنا ضروری ہے، بلکہ عقیقہ محض ایک مستحب عمل ہے جس پر عمل کرنے اور اسے بجا لانے کے ذریعہ بچے سے مصیبت و بلا دور کی جا سکتی ہے، اور اس کا بہتر اور مستحب وقت ولادت کے بعد ساتواں چودھواں یا اکیسواں دن ہے، جبکہ قربانی کا تعلق صاحبِ نصاب ہونے کے ساتھ ہے، اس لئے سائلہ کا شوہر اگر صاحبِ نصاب ہو تو اس پر قربانی کے ایام میں قربانی کرنا شرعا لازم ہے، چاہے اس کا عقیقہ ہوا ہو یا نہ۔
كما في الدر المختار: وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (6/ 312)۔