جناب میں آپ سے اس بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ حضرت امیر معاویہؓ حق پر تھے یا حضرت علیؓ ؟ میں نے مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی صاحب کی کتاب ’’حضرت امیر معاویہؓ‘‘ میں پڑھا ہے، اس میں لکھا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے امیر معاویہؓ سے کہا کہ تم میرے رازدار ہو، جو تمہارے ساتھ ہوگا وہ نجات پائے گا، کیا یہ صحیح لکھا ہے؟ کتاب کا حوالہ ’’موہبِ طبری‘‘ کا ہے، اور حضرت غوث پاک کی کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کا کہ غوث پاک نے حضرت معاویہؓ کی تعریف کی ہے، آپ یہ بتادیں کہ حق پر کون تھا حضرت علیؓ یا حضرت امیر معاویہؓ؟ سچا کون تھا؟ خلافت حضرت علیؓ کی بنتی تھی یا حضرت امیر معاویہؓ کی؟
صحیح روایات میں مشاجراتِ صحابہؓ سے متعلق جو مواد آیا ہے، اسے سامنے رکھ کر اہلِ سنت والجماعت کے تمام مرکزی علماء نے متفقہ طور پر یہ عقیدہ اختیار کیا ہے کہ اگرچہ صِفین کی جنگ میں حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا، لیکن ان کے مقابل حضرت امیر معاویہؓ کا مؤقف بھی سراسر بے بنیاد نہیں تھا، وہ بھی اپنے ساتھ شرعی دلائل رکھتے تھے اور ان سے جو غلط فہمی صادر ہوئی، وہ خالص اجتہادی نوعیت کی تھی اور اجتہاد میں خطاء کی صورت میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، لیکن چونکہ صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب اور ان کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء علیہم السلام کے بعد محبوب ترین امت ہونا قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے ناقابلِ انکار دلائل سے ثابت ہے، اس بناء پر اہلِ سنت والجماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کی تحقیق میں پڑنا درست نہیں، بلکہ اس معاملہ میں سکوت اختیار کیا جائے۔
جبکہ حضرت علیؓ و معاویہؓ دونوں کے جو فضائل احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں وہ اپنی جگہ برحق ہیں، اور دونوں ہی سچے اور اپنے اپنے وقت میں خلیفہ برحق تھے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُون﴾ (المجادلة: 22)
وقال تعالیٰ: ﴿ُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ (الفتح: 29)
وقال تعالیٰ ایضًا: ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (التوبة: 100)
وفی البخاری: عن عبد اللہ ان النبی صلی اللہ علیه وسلم قال خیر الناس قرنی ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم ثم یجی قوم تسبق شهادة احدهم یمینه ویمینه شہادته اه (ج1، ص515)
وفی فتح الملهم ناقلا عن النووی:ؒ تحت قوله صلی اللہ علیه وسلم اذا تواجه المسلمان بینهما فلقاتل والمقتول فی النار الخ، واعلم ان الدماء التی جرت بین الصحابة لیست بداخلة فی هذا الوعید ومذهب اهل السنة والحق احسان الظن بهم الامساك عما شجر بینهم وتاویل قتالهم وانهم مجتهدون متاولون لم یقصدوا معصية ولا محض الدنیا بل اعتقد کل فریق انه المحق ومخالفه باغ فوجب علیہ قتاله لیرجع الی امر اللہ وکان بعضهم مصیبا وبعضهم مخطئًا معذورا فی الخطاء لانه لاجتهاد والمجتهد اذا خطاء لا اثم علیه وکان علی رضی اللہ عنه هو المحق المصیب فی تلك الحروب اه (6/272) واللہ اعلم بالصواب!
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0