جناب فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں، بی بی پاک کی تربیت میں کوئی سقم نہیں، سوال یہ ہے کہ بیوی پاک نے فدک کا دعویٰ کیا اگر کیا تو کس کے عدالت میں کیا؟ اگر عدالت نے فیصلہ حق میں کیا تو ٹھیک اگر نہیں تو دعویٰ خارج کیا گیا؟ پلیز جواب دیں کہ دعویٰ سچا تھا یا جھوٹا؟
’’فدک‘‘ رسول اللہ ﷺ کا ایک مملوکہ باغ تھا آپ کی وفات کے بعد خلیفہ بلا فصل حضرت ابوبکر صدیقؓ جب منصب خلافت پر فائز ہوئے تو عام میراث کے احکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضرت فاطمہؓ نے اس کی تقسیم کا مطالبہ کیا، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کو نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان سنایا کہ ’’ہمارے (انبیاء کرام) کے مال میں میراث جاری نہیں ہوتی، بلکہ ہم جو چھوڑدیں وہ عام مسلمانوں کیلیے صدقہ ہوتا ہے‘‘ اور اسی بناء پر منع فرمادیا، چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کے بعد سے مرتے دم تک اس معاملہ میں کوئی کلام نہیں فرمایا، اس لیے چودہ سو سال بعد اس قسم کی باتوں کو مورد بحث قرار دینا جہالت یا فتنہ پروازی پر مبنی ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
وفی صحيح البخاري: عائشة، أن فاطمة عليها السلام، بنت النبي صلى الله عليه وسلم أرسلت إلى أبي بكر تسأله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم مما أفاء الله عليه بالمدينة، وفدك وما بقي من خمس خيبر فقال أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا نورث، ما تركنا صدقة، إنما يأكل آل محمد - صلى الله عليه وسلم - في هذا المال»، وإني والله لا أغير شيئا من صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حالها التي كان عليها في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولأعملن فيها بما عمل به رسول الله صلى الله عليه وسلم. فأبى أبو بكر أن يدفع إلى فاطمة منها شيئا، فوجدت فاطمة على أبي بكر في ذلك، فهجرته فلم تكلمه حتى توفيت، (إلی قوله) فلما تكلم أبو بكر قال: والذي نفسي بيده لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلي أن أصل من قرابتي، وأما الذي شجر بيني وبينكم من هذه الأموال، فلم آل فيها عن الخير، ولم أترك أمرا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيها إلا صنعته اھ(5/ 139) واللہ اعلم بالصواب!
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0